شاہ رخ کی دیسی ’دی انکریڈیبل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرینہ کپور عرف بیبو نے ایک نئی فلم کے لیے ڈھائی کروڑ روپے کا سودا طے کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی رقم ابھی تک بھارت میں کسی ہیروئین کو نہیں دی گئی۔ یہ نئی فلم پروڈیوسر ہیری بویجہ اپنے بیٹے ہرنام کو لانچ کرنے کےلیے بنا رہے ہیں بیبو سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں بس بھگوان کی کرپا ہے ‘۔ ویسے کرینہ جی اگر آپ کی فلموں کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ واقعی آپ پر خدا مہربان ہے ۔ لیکن ان بیچارے پروڈیوسروں کا کیا ہوگا جو انڈسٹری کی ’بڑی‘ ہیروئینوں کے ساتھ نئی فلمیں سائن کرنے والے ہیں۔ خاص طور پر ایشوریہ رائے جنہوں نے لندن میں اپنا موم کا مجسمہ لگنے کے بعد پہلے ہی اپنے دام بڑھا دیے ہیں جس سے ان کی ساتھ کام کرنے کے خواہش مند پروڈیوسر پہلے ہی پریشان تھے اور اس سے بڑھ کر وویک اوبرائے کا کیا بنےگا جو پہلے ہی پروڈیسروں سے یہ کہتے پھر رہے تھے کہ کم پیسوں میں ہی سہی ’بس ایک فلم چاہئے عاشقی کے لیے‘۔ بحر حال کرینہ کو اپنی فلم کامیڈی فلم’ہلچل‘ کا شدت سے انتظار ہے جو اسی ہفتے ریلیز ہو رہی ہے لیکن حال ہی میں ریلیز ہونے والی اپنی فلم اعتراض کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ فلم میں ان کا رول محبت کرنے والی بیوی کا تھا لیکن ساری تعریف دوسری عورت یعنی پریانکا چوپڑہ کو ملی۔
اب پریانکا کو تو پتہ نہیں کیا کیا ملتا ہے تازہ خبر یہ ہے کہ فلمساز جی پی شری کانت نے نہ صرف پریانکا بلکہ ان کے پاپا ڈاکٹر چوپڑہ اور ان کے سیکریٹری پرکاش جاجو کے خلاف عدالت سے نوٹس بھیجے ہیں۔ جی نہیں اس مرتبہ معاملہ عشق کا نہیں کیش کا ہے۔ پچھلی مرتبہ ان کے سیکریٹری پرکاش جاجو نے اکشے کما ر سے تھپڑ کھانے کے بعد پریانکا پر مقدمہ دائر کیا تھا اس مرتبہ فلمساز شری کانت بھنائے ہوئے ہیں۔ الزام ہے کہ چوپڑہ فیملی نے ان کی کمیشن کے ایک کروڑ روپیے ہڑپ لیے۔ پرینکا نے 2001 میں شری کانت فرم میں رجسٹریشن کروایا تھا تاکہ انہیں بہتر رول مل سکیں اور ان کے پاپا جی نے پیشگی رقم بھی وصول کی تھی۔ فرم کا دعوی ہے کہ پریانکا کو فرم نے دس فلمیں دلوائیں لیکن کمیشن کے نام پر انہیں ٹھینگا دکھا دیا گیا۔ لگتا ہے اب پریانکا کو سیکریٹری کی نہیں بلکہ ایک فُل ٹائم وکیل کی ضرورت ہے ۔ بھارت کے سابق کرکٹر نواب پٹودی اور شرمیلا ٹیگور کی صاحبزادی اور اس سے بھی بڑھ کر سیف علی خان کی بہن سوہا علی خان پہلے تو ایک بینک میں کام کرتی تھیں پھر اچانک انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ اماں اور بھائی جان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلموں میں قسمت آزمائی جائے۔ پھر کیا تھا نوکری چھوڑی اور پہنچ گئیں گلیمر کی دنیا میں۔
سوہا کا کہنا ہے کہ انڈسٹری میں صرف گلیمر ہی نہیں ہے بلکہ یہاں محنت اور لگن کے ساتھ ساتھ دن رات کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں آنے سے پہلے ان کی اماں اور بھائی جان نے انہیں جو ٹپس دئیے تھے وہ بہت کام آئے۔ سوہا کی فلم ’یہ دل مانگے مور‘ جلدی ہی ریلیز ہونے والی ہے جس میں سوہا شاہد کپور کے ساتھ نظر آئیں گی۔ اب فلم دیکھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اماں اور بھائی جان کے ٹپس کتنے کام آئے۔ کنگ خان یعنی شاہ رخ خان نے ہالی ووڈ کی اینیمیشن فلم The Incredible کے ہندی version ’ہم ہیں لاجواب‘ کے لیے ڈبنگ کی ہے ۔ اینیمیٹڈ کرداروں کے لیے آواز دینا ہالی ووڈ میں تو عام بات ہے لیکن بالی ووڈ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔ یہ فلم 17 دسمبر کو پورے بھارت میں ریلیز ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام بھی کیا گیا اور اس مرتبہ کنگ خان نے اپنے ساتھ کام کرنے والے دوسرے ساتھیوں کو بھی لائم لائٹ میں آنے کا موقع دیا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیسے ہوا ۔ اس لیے کیونکہ فلم میں خود شاہ رخ کے بیٹے آرین خان نے فلم میں مسٹر لاجواب (شاہ رخ خان) کے بیٹے ٹیز کا رول ادا کیا ہے۔ یعنی ’بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||