انگریزی تھالی میں ہندی کھانا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشوریہ رائے کے ساتھ گریندر چڈھا کی ’برائیڈ اینڈ پریجوڈس‘ جسے انگریزی تھالی میں ہندوستانی کھانا کہا جا رہا ہےکہ یہ فلم برطانیہ میں تو انڈین کری کی طرح شائقین کو تھوڑا بہت مزا دے گئی لیکن ایسا لگتا ہے خود بھارت میں لوگوں کو اس کا ذائقہ پسند نہیں آیا۔ فلم میں پیانو کی دھن کی جگہ بھنگڑا بیٹ نے لے لی۔اس کے علاوہ جین آسٹن کے ناول کے کردار ، ان کے دبے دبے جذبات اور مناظر پچھلے دروازے سے باہر جاتے ہوئے دکھائی دیئے۔ فلم میں امرتسر سے لیکر انگلینڈ اور نیوجرسی تک اتنی بلے بلے ہوئی کہ قبر میں جین آسٹن کی روح بھی گھبرا کر بھنگڑا کرنے لگی ہوگی۔اس کے علاوہ ایشوریہ کے ہندی فلموں والے ایکسپریشن لوگوں کو ذیادہ متاثر نہ کر سکے بحرحال انگلش بوتل میں دیسی شراب بھر کر بیچنے کا یہ گُر ہندوستانیوں کو پسند نہیں آیا۔ اور ایش کی اس فلم پر اتنا کیش لگا کر بھی گریندر لوگوں کی کچھ خاص بھیڑ جمع نہیں کر سکیں۔ چلیئے اب گریندر جی کی اگلی فلم کا انتظار کرتے ہیں۔ ہاٹ ملکہ - - - - اور گرم دھرمل۔۔۔۔۔ یعنی دھرمیندر کی فلم ’کس کس کی قسمت‘ جلد ہی ریلیز ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فلم، شائقین کی ایک بڑی بھیڑ جمع کر سکے گی کیونکہ میڈم ملکہ نے اپنی پچھلی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس فلم میں بھی بلا جھجک جسم کی نمائش کی ہے۔
پتہ نہیں ان کی فلمیں ہر بار سینسر بورڈ سے کس طرح آنکھ مچولی کھیلتی ہوئی صاف بچ جاتی ہیں۔حالانکہ فلم میں مارلن منرو کے المشہور بہکتے ہوئےایک سین کو ہو بہو ملکہ پر فلمایا گیا ہے جس پر سینسر بورڈ نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔ کمال ہے ملکہ کے پچھلے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے سنسر بورڈ کو اتنے معصوم سین پر تو بلکل اعتراض نہیں کرنا چاہئے تھا بحر حال یہ بورڈ کا حق ہے جو وہ کبھی کبھی استعمال بھی کرنا چاہتا ہے۔ فلم میں دھرجی کی کامیڈی کے درمیان شائقین کی بوریت دور کرنے کے لیے ملکہ اپنے جسم کا مظاہرہ میرا مطلب ہے اپنے حسن کا مظاہرہ کریں گی تاکہ دیکھنے والے اپنی سیٹیں چھوڑ کر نہ بھاگیں۔ معاف کیجیئے گا دھرم جی ایک زمانے میں آپ کی کامیڈی کی مثال نہیں ملتی تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس فلم میں ڈائریکٹر نے آپ کی کامیڈی سے زیادہ ملکہ کے کاسٹیومز اور situation پر توجہ دی ہے۔ دیکھتے ہیں کس کس کی قسمت میں ہے یہ فلم۔ یش چوپڑہ کی نئی فلم ’ویرزارہ‘ ریلیز سے پہلی ہی لوگوں کے تجسس کا سبب بن گئی ہے۔ ایک بھارتی پائلٹ اور پاکستانی لڑکی کی محبت کی یہ داستان پہلے بھی کئی فلموں میں دہرائی جا چکی ہے تو اب اس فلم میں نیا کیاہے؟ شاید شاہ رخ خان اور یش چوپڑہ۔ اس فلم کی ایک اور اہم اور خاص بات مرحوم مدن موہن کی دھنیں ہیں۔ فلم میں رانی مکھرجی ایک پاکستانی وکیل کے کردار میں نظر آئیں گیااور فلم سے لوگوں کی بہت توقعات وابستہ ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ایسے وقت میں جبکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اور عوام ایک دوسرے کے نزدیک آنے کی کوششیں کر رہے ہیں، سرحدوں کے دونوں سمت دھڑکتے دلوں کی یہ کہانی باکس آفس پر کتنی دھوم مچاتی ہے۔
ویسے سننے میں آیا ہے کہ اس فلم میں اجے دیو گن کو ایک اسپیشل رول پیش کیا گیا تھا جسے انہوں نے ٹھکرادیا ان کا کہنا ہے کہ وہ شاہ رخ کی کسی بھی فلم میں ان کی ٹکر کا رول ہی کرنا چاہیں گے اور پھریہ رول منوج باجپائی نے کیا ویسے بھی آجکل منوج بھیا کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||