رنگیلا: آخری تحفہ ’منڈے توبہ توبہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ فلم ابھی ریلیز نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ مصنّف و ہدایت کار حفیظ احمد نے بتایاہے’ یہ تدوین کے آخری مراحل سے گُزر کر اب نمائش کے لئے تیار ہے‘ یہ ایک سر تا سر کامیڈی فلم ہے اور اس میں رنگیلا کے ساتھ ملک کے تمام نامور مزاحیہ اداکاروں نے کام کیا ہے: مثلاً عمر شریف، جان ریمبو، عابد کاشمیری، مستانہ، ببو برال، طارق جاوید، محمود خان، رسیلا، جھبیلا اور نشیلا وغیرہ۔ فلم کا موضوع جھوٹا نسلی تفاخر ہے۔ فلم کے دونوں مرکزی کردار ’خان صاحب‘ کہلاتے ہیں۔
ایک تو پٹھان ہونے کے سبب خان صاحب کہلاتا ہے اور دوسرے کوگانے بجانے سے تعلق رکھنے کی نسبت خان صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ تاہم کہانی کی اُٹھان ایسی رکھی گئی ہے کہ آخر کار انسان کا ذاتی اخلاق ہی ایک بنیادی قدر کے طور پر اُبھر کر سامنے آتاہے اور ذات برادری یا اعلیٰ نسبی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ مصّنف اور ہدایتکار حفیظ احمد ’ظلم دا بدلہ‘ سمیت کئی سُپرہٹ فلموں کے خالق ہیں اور پینتیس برس تک ان کی رنگیلے سے قربت رہی ہے۔
حفیظ احمد کا کہنا ہے جب رنگیلا شدید بیمار ہوئے تو فلم کی کچھ شوٹنگ ابھی باقی تھی لیکن ہسپتال جانے سے پہلے رنگیلا نے دن رات ایک کر کے اپنی اس فلم کا کام ختم کیا اور بسترِ علالت پر اکثر پوچھتے رہتے کہ فلم ’منڈے توبہ توبہ‘ کب ریلیز ہو رہی ہے۔ حفیظ احمد کا کہنا ہے کہ رنگیلا ایک گانے کی فلم بندی سے پوری طرح مطمعن نہیں تھے اور اکثر ضِد کرتے تھے کہ اس گانے کو دوبارہ فلمایا جائے۔
جب حفیظ احمد آخری بار ان کی عیادت کے لیے گئے تو رنگیلا نے ازراہِ تفنن کہا ’یار وہ گانا دوبارہ فلما لو پیسے مجھ سے لے لینا‘۔ بسترِ مرگ پر بھی انہوں نے اپنی حسِ مزاح کو زندہ رکھا تھا۔ رنگیلا کی آخری فلم مصنّف اور ہدایت کار حفیظ احمد کے سر پر مرحوم کا ایک قرض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ’منڈے توبہ توبہ‘ کی شایانِ شان نمائش کر کے اس بوجھ سے آزاد ہو جانا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||