جیکسن کی عدالت سے نئی استدعا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کے وکلاء نے عدالت سے درخوست کی ہے کہ وہ ان کے بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمہ کو غیر قانونی قرار دیں کیونکہ ایک گواہ نے عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت سے باہر شواہد پر بحث کی ہے۔ جیکسن کے وکلاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ ایک گواہ نے عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ جج نے کہا کہ وہ وکیل صفائی کی درخواست پر آئندہ ہفتے ہیں غور کریں گے۔ مائیکل جیکسن نے اپنے خلاف دس الزامات کی جن میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں شامل ہے، تردید کی ہے۔ جمعہ کو سماعت کے دوران عدالت نے پہلی بار جیکسن کے خلاف بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے پرانے الزامات سنے۔ مدعی کے وکیل لیری فیلڈمین نے بتایا کہ انیس سو ترانوے میں جیکسن نے عدالت سے باہر زیادتی کا شکار ہونے والے ایک بچے کو بھاری رقم ادا کی تھی۔ موجودہ مقدمے پر بحث کرتے ہوئے وکیل نے کہا کہ زیادتی کا شکار ہونے والے گیون اروزو کے خاندان نے سرکاری اہلکاروں کو خبردار کرنے سے پہلے ان سے قانونی مشورہ لیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضع کیا کہ وہ جیکسن کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ایک اور موقع پر ایک تحقیقاتی ماہر نے پاپ سٹار کے گھر ’نیور لینڈ‘ پر ساٹھ افراد کے ہمراہ چھاپے کو جائز قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران جیکسن کے کمرے میں سے موجودہ مدعی کے ڈی این اے براآمد نہیں ہوا۔ زیادتی کا شکار ہونے والے مدعی اور اس کے بھائی نے الزام لگایا ہے کہ وہ اکثر جیکسن کے کمرے میں ان کے بستر میں سوتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||