’فٹبالر نہیں، اداکار بنوں گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانز فلمی میلے میں ایوارڈ حاصل کرنے والے نوجوان یویا یاگیرہ کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے سبب وہ فٹبال کو اپنا کیریئر نہ بنانے پر تیار ہو گئے ہیں۔ چودہ برس کے یاگیرہ کو فلم ’نوباڈی نوز‘ کے سلسلے میں بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ یہ فلم ایسے بچوں کی کہنا ہے جنہیں ان کی ماں چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ یاگیرہ کا کہنا ہے کہ ’میں ابتداً فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ فٹبال کا کھلاڑی بنوں یا اداکار مگر اب اس بات پر قائل ہو چکا ہوں کہ مجھے اداکاری کے شعبے میں سخت محنت کرنی چاہئے۔‘ یاگیرہ سنیچر کو منعقدہ تقسیم انعامات کی تقریب میں شرکت نہیں کر پائے تھے کیونکہ وہ امتحان کے پرچے دینے کیلئے گھر واپس گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فلم کی تیاری کے دوران ہدایتکار کے کہے پر عمل کرتے رہے اور بعد میں ایوارڈ ملنے پر بہت خوش ہیں۔ یاگیرہ نے ٹوکیو میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دوستوں نے موبائیل فون پر مبارکباد کے پیغامات بھیجے۔ مشہور فلم ’پلپ فکشن‘ کے ہدایتکار کوئینٹن ٹیرنٹینو کے زیر صدارت جیوری نے یاگیرہ کو بہترین اداکار منتخب کیا۔ البتہ بہترین فلم کا پام دوغ ایوارڈ امریکی ہدایتکار مائیکل مور کی دستاویزی فلم ’فارن ہائٹ 11/9 ‘ کو دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||