المادوار کی نئی فلم: محرکات اور ذاتی تجربات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے مشہور ہدایتکار پیدرو الما دوار نے اپنی نئی فلم ’لا مالا ایجوکیشن‘ یا ’بری تعلیم‘ کے بارے میں کہا ہے کہ اس فلم میں جو، ساٹھ کی دہائی میں کیتھولک سکولوں میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر بنائی گئی ہے، ان کے اپنے بچپن کے کچھ تجربات بھی شامل ہیں۔ الما دوار کی اس نئی فلم کو ناقدین کی طرف سے بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسے پادری کی کہانی ہے جسے اپنے ایک شاگرد سے پیار ہوجاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ زیادتی کر نے کی کوشش کرتا ہے۔ ’ہاں میں خود جانتا ہوں ایسے ایک پادری کو بھی اور ایک ایسے شاگرد کو بھی۔‘ المادوار کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی ایسے ہی پادریوں سے تعلیم حاصل کی ہے جن کی تعلیم کا تصور سزا کے خوف پر مبنی تھا۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ فلم کی کہانی مکمل طور پر ان کے ذاتی تجربے پر مبنی نہیں ہے۔ ’یہ فلم یقینناً میری نمائندگی کرتی ہے لیکن اس فلم کے واقعات و حالات مکمل طور پر میری ذاتی زندگی سے نہیں ہیں۔‘ ناقدین کےخیال میں ’لا مالا ایجوکیشن‘ یقینناً عالمی فلمی سین پر الما دوار کی ساکھ کو بہت تقویت دے گی جو پچھلے بیس برس میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||