| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کل ہو نہ ہو‘: بالی وڈ کا نیا انداز
’کل ہو نہ ہو‘ یقینناً نوجوانوں کی فلم ہے اور اس نئی نسل کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ایم ٹی وی دیکھ کر پروان چڑھ رہی ہے۔ اگرچہ کہانی کے ہیرو کا کردار پچاس برس پرانے اسی ماڈل پر مبنی ہے جس نے دلیپ کمار کو ٹریجیڈی کنگ کا خطاب دلوایا تھا لیکن نیو یارک کے ڈسکو کلبوں اور امریکہ میں آباد گجراتی اور پنجابی برادری کے گھریلو ہلّے گلّے میں کہانی کا المیہ پہلو بہت دیر تک دبا رہتا ہے اور جب آخر کار یہ سامنے آتا ہے تو ہدائیکار کا دل نہیں چاہتا کہ اسے جلدی جلدی سمیٹ کر کہانی کو انجام تک لے جائے۔ اس لحاظ سے فلم کے آخری تیس منٹ بے رحمانہ ایڈیٹنگ کا تقاضہ کرتے ہیں لیکن اس خامی کے باعث فلم کی خوبیوں کو نظر انداز کر دینا بے انصافی ہوگی۔ فلموں میں نئے اور پرانے انداز کی تقسیم یوں تو کئی بنیادوں پر ہو سکتی ہے لیکن اگر سکرین پلے میں واقعات کے زمانی تسلسل اور مکانی اکائی کو بنیاد بنا کر سوچا جائے تو غالباً یہ فلم بالی وڈ میں اندازِ نو کی بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ ایم ٹی وی جیسے چینل واقعات کو سکرین پر پیش کرنے کا جو نیا انداز لے کر سامنے آئے ہیں اس میں یہ نکات قابلِ غور ہیں o== واقعات کو ان کی اصل ترتیب میں پیش کرنا ضروری نہیں o== تصویر اور آواز کا متوازی رشتہ دکھانے کی بحائے اسے تقابل یا counterpointمیں دکھانا زیادہ قابلِ تحسین ہے o== تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کیے جانے والے متعدد بصری تاثرات کا مجموعی تاثر ان اجزائے ترکیبی کے مجوعے سے ماوراء ایک نیا تاثر تخلیق کر سکتا ہے (مثلاً پرندے، آسمان اور ہوا کے تین بصری تاثرات مل کر اپنے مجوعے سے ماوارء ایک نئے تصورِ ’آزادی‘ کو جنم دے سکتے ہیں) o==تحریری مکالمے کی ادائیگی میں جو تصنع در آتا ہے اسے صرف mprovisation کے ذریعے ہی بے ساختگی بخشی جا سکتی ہے۔ o==سکرین کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے کئی زمانی اور مکانی امکانات کو بیک وقت ناظرین کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ فلمی روایت کی ایک اور ادا جس کی ابتداء معروف ہدایتکار انگمر برگمان نے کی تھی، یہ ہے کہ ماضی کی یادوں یا مستقبل کے تصورات کو سُپر امپوز کرنے کی بجائے بالکل حقیقی انداز میں فریم کا حصہ بنا لیا جائے۔ مثلاً بوڑھا شخص اپنے بچپن کے بارے میں سوچ رہا ہے تو عین اسی وقت اسی کمرے میں اس کے بچپن کا ایک منظر شروع ہو جاتا ہے جس میں وہ ایک بچے کے طور پر موجود ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ فریم تبدیل نہیں ہوا اور اس میں بوڑھا شخص بھی جوں کا توں بیٹھا ہے اور حیرت سے اپنے بچپن کی یادوں کو اپنے سامنے وقوع پذیر ہوتے دیکھ رہا ہے۔ انگمر برگمان کے بعد اس تکنیک سے کوئی قابلِ ذکر استفادہ نہیں کیا گیا اور شاید فلم آرٹ کے حق میں یہ اچھا بھی ہوا کہ ایک عمدہ تکنیک کثرتِ استعمال سے ضائع نہ ہوئی اور آج بھی اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی تازگی کا احساس ’کل ہو نہ ہو‘ کے کئی مناظر دیکھ کر قوی تر ہو جاتا ہے۔ فلم کی کہانی اگرچہ مرکزی نسوانی کردار (پریتی زینٹا) کی زبانی بیان کی گئی ہے لیکن فلم کا کینوس محض واحد متکلم کے نقطۂ نظر تک محدود نہیں ہے۔ ڈائریکٹر نے جب بھی چاہا مرکزی کردار کے محدود نقطۂ نظر کا دائرہ توڑ کر ہمیں واقعات کے اس سیلِ رواں کے سامنے لے آیا جس کا علم کہانی بیان والے مرکزی کردار کو نہیں ہے۔ کڑے تنقیدی اور خالص منتقطی معیار پر جانچا جائے تو ڈائریکٹر کو اس ب’بے راہ روی‘ کی اجازت نہیں دی جا سکتی لیکن اس فلم کا پورا تاروپو ہی ایسا ہے کہ اسے کسی بنے بنائے سانچے سے ناپنا فلم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ ڈائریکٹر نکھل ایڈوانی کی یہ پہلی کاوش ہے۔ وہ جس اعتماد سے ہدایت کاری کے میدان میں داخل ہوئے ہیں، مستقبل میں ان سے بہت امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ مکالمہ نگار بھی اس میدان میں نئے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نےفلم لگان کی ویب سائیٹ تیار کی تھی اور حال ہی میں فلم ’جسم‘ کے مکالمے لکھے تھے۔ ’کل ہو نے ہو‘ ان کی تیسری کوشش ہے۔ مکالمہ نگار اور ہدایتکار کے ساتھ ساتھ اس فلم میں تدوین کاری (ایڈیٹنگ) کا کام بھی انتہائی اہم ہے۔ فلم ایڈیٹر سنجے سنکلا اس ٹیم کے ایک نسبتاً تجربہ کار رکن ہیں۔ وہ دس برس سے فلموں کی ایڈیٹنگ کر رہے ہیں اور ان کے کریڈٹ پر کچھ کچھ ہوتا ہے، کبھی خوشی کبھی غم، بس اتنا سا خواب ہے، اور انداز جیسی فلمیں موجود ہیں۔ نیویارک کی سڑکوں، گلیوں، محلوں، کلبوں اور ریستورانوں میں بننے والی یہ فلم ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہو سکتی ہے اور فلم کے اختتامی مناظر کو ایڈیٹر کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا تو وہ یقیناً اس میں اختصار اور جامعیت پیدا کر کے اس سونے کو کندن میں تبدیل کر دیتے۔ لیکن ہدایت کار کی پہلی کوشش کے طور پر پھر بھی ’کل ہو نہ ہو‘ ایک قابلِ تحسین فلم ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||