| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
باغیوں کی فلموں کے خلاف بغاوت
شمال مشرقی بھارت میں باغیوں کی طرف سے بھارتی فلموں پر بندش کے مطالبہ کے بعد سنیما مالکان اور تقسیم کار فلموں کو سینسر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خطے میں نو انتہائی طاقتور علیحدگی پسند گروہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پندرہ نومبر سے سنیما گھروں پر بھارتی فلموں کی نمائش بند کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندی فلمیں مقامی ثقافت اور اقدار کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ان فلموں میں دکھائے جانے والے ہیجان انگیز مناظر اور گانے علاقے کے نوجوانوں پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ریاست منی پور میں پہلے ہی ان فلموں کی نمائش پر پابندی ہے اور سنیما گھروں سے کہا گیا ہے کہ وہ روزگار کا کوئی اور ذریعہ تلاش کریں۔ ایسٹرن انڈیا موشن پکچر ایسوسی ایشن کے چیئرمین سی ایس نرائن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ان فلموں کی نمائش سے پہلے ہی فحاشی اور عریانیت پر مبنی مناظر کاٹ دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا فلموں کو سینسر بورڈ اجازت ملنے کے بعد بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا: ’تاہم ایسا باغیوں کے دباؤ میں آکر نہیں کیا جا رہا۔‘ نرائن نے کہا کہ ہندی فلمیں بھارتی فلمی صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ریاست منی پور میں باغیوں کی طرف سے ہندی فلموں کی نمائش پر لگنے والی پابندی کے بعد وہاں کئی سنیما گھر بند ہوگئے ہیں یا پھر ان میں صرف منی پوری اور انگریزی فلموں کی نمائش کی جاتی ہے۔ نرائن کہتے ہیں کہ اگر پابندی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر خدشہ ہے کہ لوگ دیہات میں چھپ کر یہ فلمیں دیکھیں گے۔ ایسوسی ایشن کے ایک اور عہدیدار پی سی گولچا کہتے ہیں کہ آسام میں پانچ ہزار دیہی ہال ہیں جہاں فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور ان میں سے صرف دس سے بارہ کے پاس سرکاری اجازت نامے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |