کیوبا میں انقلاب کے بعد پہلا بین الاقوامی فیشن شو

 لیگرفیلڈ کا کہنا تھا کہ ان کا یہ کام کیوبا کے ’ثقافتی دولت ‘ سے متاثر ہوا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن لیگرفیلڈ کا کہنا تھا کہ ان کا یہ کام کیوبا کے ’ثقافتی دولت ‘ سے متاثر ہوا

فرانسیسی فیشن ہاؤس ’شنیل‘ نے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ایک شو منعقد کیا ہے۔

یہ کیوبا میں سنہ 1959کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد ہونے والا پہلا بین الاقوامی فیشن شو ہے۔

اگرچہ شنیل کی مصنوعات کیوبا میں دستیاب نہیں ہیں لیکن دنیا بھر کی مشہور شخصیات نے اس فیشن شو میں شرکت کی جس میں شنیل کی ’کروز کلیکشن‘ یعنی بحری ملبوسات کی کیٹ واک کے ذریعے نمائش کی گئی۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے عام شہریوں کو تقریب کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی جسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ فیشن شو کیوبا کے مغرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے حالیہ تعلقات کا نتیجہ ہے۔

لیگر فیلڈ کا کہنا تھا کہ یہ ملبوسات کیوبا کے ’ثقافتی ورثے‘ کے عکاس ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنلیگر فیلڈ کا کہنا تھا کہ یہ ملبوسات کیوبا کے ’ثقافتی ورثے‘ کے عکاس ہیں

گذشتہ ہفتے امریکی شہر فلوریڈا سے آنے والا ایک سیاحتی بہری جہاز بھی ہوانا کے ساحل پر پہنچا تھا۔ایسا پچھلے 50 سالوں میں پہلی بار ہوا۔

واضح رہے کہ کیوبا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات پچھلے سال بحال ہوئے تھے۔

شنیل کے لیڈ ڈیزائنر کارل لیگرفیلڈ کے ڈیزائن کردہ ملبوسات کی جھلک دیکھنے کے لیے مشہور اداکار ون ڈیزل اور سپر ماڈل جزل بنڈ چن بھی شو میں موجود تھے۔

لیگر فیلڈ کا کہنا تھا کہ یہ ملبوسات کیوبا کے ’ثقافتی ورثے‘ کے عکاس ہیں۔

سپر ماڈل جزیل بنڈچین ایک قدیمی گاڑی پر بیٹھی دکھائی دہ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسپر ماڈل جزیل بنڈچین ایک قدیمی گاڑی پر بیٹھی دکھائی دہ رہی ہیں

لیکن سکیورٹی اہلکاروں کی وجہ سے ہوانا کے شہری شو کو صرف دور سے ہی دیکھ پائے جبکہ وی آئی پی مہمانوں کو قدیم امریکی سیڈان میں شو دیکھنے کے لیے لایا گیا۔

سکیورٹی اہلکاروں نے شہریوں کو شو کے نزدیک نہیں انے دیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکاروں نے شہریوں کو شو کے نزدیک نہیں انے دیا

ایک ابھرتی ہوئی مقامی ماڈل رینالڈو فونیسیکا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ’انتہائی شرم کی بات ہے کہ ہمیں اس شو کو دیکھنے کے لیے آگے نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔‘

کیوبن شہری شو کو دور ہی سے دیکھ سکے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکیوبن شہری شو کو دور ہی سے دیکھ سکے

بی بی سی کے ول گرانٹ کا کہنا تھا کہ شنیل کی اشیا اوسط درجے کے 25 ڈالر ماہانہ تنخواہ پانے والوں کی پہنچ سے دور ہیں۔