اظہار رائے کی آزادی کا ایک رخ خاموشی بھی ہے: شاہ رخ

فلم فین ایک سٹار اور اس کے مداح کے رشتے پر مبنی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفلم فین ایک سٹار اور اس کے مداح کے رشتے پر مبنی ہے

بھارتی سپر سٹار شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ اظہار رائے آزادی کا مطلب ’خاموشی‘ اختیار کرنا بھی ہوتا ہے اس لیے وہ آئندہ ’چپ‘ ہی رہیں گے۔

انھوں نے یہ باتیں اپنے فلم ’فین‘ کے ٹریلر لانچ کے موقع پر کہیں۔

سنہ 2015 میں روہت شیٹی کی ہدایت میں بننے فلم ’دل والے‘ کے دوران اظہار رائے کی آزادی کے متعلق شاہ رخ کے ایک بیان پر بہت ہنگامہ ہوا تھا۔

فلم ناقدین کا کہنا تھا کہ اس ہنگامے کی وجہ سے ہی فلم کو باکس آفس پر اندازے کے مطابق خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

جب شاہ رخ سے ان کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’فریڈم آف سپیچ کو لوگ اپنے اپنے انداز میں لے سکتے ہیں لیکن میرے خیال سے اس کا ایک مطلب ’خاموش‘ رہنے کا حق بھی ہے، اس لیے اب میں چپ ہی رہوں گا۔‘

دل والے توقعات کے مطابق بزنس نہیں کر سکتی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندل والے توقعات کے مطابق بزنس نہیں کر سکتی تھی

یش راج فلمز کے بینر تلے منیش شرما کی ہدایت میں بننے والی فلم ’فین‘ کی کہانی ایک اداکار اور اس کے سب سے بڑے فین کے تعلقات پر مبنی ہے۔

اس موقعے پر شاہ رخ نے کہا کہ یہ ’ڈبل رول‘ کی نہیں ہمشکل افراد کی کہانی ہے۔

ایک جیسے چہرے کے بارے میں اپنی ذاتی زندگی سے منسلک ایک قصہ سناتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میں جب چھوٹا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ میں کمار گورو کی طرح نظر آتا ہوں۔ جب فلم ’لو سٹوری‘ ریلیز ہوئی تھی تو لوگ مجھے ریڈ چیک شرٹ میں دیکھ کر کمار گورو بولتے تھے، مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’جب میں پہلی بار ممبئی آیا تو سب سے پہلے کمار گورو سے ملنا چاہتا تھا۔ پھر مجھے لگا کہ میں الپچینو کی طرح ہوں آج میں اپنے والد کی طرح لگتا ہوں اور پھر وہ دور بھی آئے گا جب میں خود کی طرح نظر آنا چاہوں گا۔‘

فین کے ٹریلر لانچ کے موقعے پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنفین کے ٹریلر لانچ کے موقعے پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے

ایک ہی طرح کا کام کرنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شاہ رخ نے کہا: ’25 سالوں سے فلمی ناقدین یہی کہتے آ رہے ہیں کہ میں ایک ہی طرح کی ایکٹنگ کرتا ہوں، لیکن مجھے ’شاہ رخ‘ ہونا پسند ہے۔‘

شاہ رخ نے مزید کہا: ’ہم اداکار بڑے بیوقوف ہوتے ہیں لائنیں یاد ہی نہیں رہتیں اور میں تو خود کو کم ٹیلنٹڈ جانتا ہوں کیونکہ مجھے گانا نہیں آتا، صرف ڈائیلاگ ہی بول سکتا ہوں۔‘

اپنی اس فلم کے بارے میں شاہ رخ نے کہا کہ 25 سالوں میں شاید یہ پہلی فلم ہے جس میں میں نے کوئی سگنیچر سٹیپ نہیں کیا۔ اس میں کوئی گیت نہیں ہے، ایک بھی آئٹم سانگ نہیں ڈالا گیا ہے۔ یہ دراصل ایک مختلف قسم کی فلم ہے۔

شاہ رخ کی اس فلم کا پروموشن گذشتہ سال سے ہی چل رہا ہے اور ان کے اچھے دوست اداکار سلمان نے بھی اس فلم کا پروموشن کیا ہے۔

’دل والے کی ناکامی کے بعد اس فلم سے شاہ رخ کو بہت امیدیں وابستہ ہیں جنھیں ان کے مداح پورا کرسکتے ہیں۔