سکرین گلڈ ایوارڈز میں ’تنوع کا راج‘

برطانوی اداکار ادریس البا تقریب کے اہم کامیاب اداکار تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبرطانوی اداکار ادریس البا تقریب کے اہم کامیاب اداکار تھے

صحافتی ڈرامے سپاٹ لائٹ نے سکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈز میں اہم ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ لیکن ایوارڈز کی تقریب میں نسلی اقلیت کے اداکاروں کی کامیابی کو زیادہ توجہ ملی۔

فلم سپاٹ لائٹ کا موضوع ہے کہ اخبار دی بوسٹن گلوب بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ایک کیتھولک پادری کے متعلق تحقیقات کرتا ہے۔ اس فلم کو بہترین کاسٹ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

لیکن لاس اینجلس میں ہونے والی تقریب میں کئی اہم ایوارڈز نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کو ملے جس کی وجہ سے فلمی صنعت کے جریدے ورائیٹی نے لکھا کہ ’تنوع کا دور ہے۔‘

ایسا اس وقت ہوا ہے جب آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے ناموں پر تنازع پیدا ہوا اور کہا گیا کہ اس میں سیاہ فام اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل نہیں کیا گیا۔

اداکارہ اوزو ادوبا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کی کامیابی کو سراہا گیا

سکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈ کی تقریب میں ایک بار پھر فلم ’دا ریوننٹ‘ بازی لے گئی ہے۔

فلم کے لیڈ ایکٹر لیونارڈو ڈی کیپریو کو بہترین اداکار کا سب سے اہم ایوارڈ دیا گیا ہے۔

مسٹر ڈی کیپریو نے بیک سٹیج بات کرتے ہوئے کہا ’جو بھی مجھ سے یہ سوال کرتا ہے کہ میرا کیریئر کیسے شروع ہوا تو میرا جواب ہے فلمیں دیکھ کر۔ ماضی میں فلمز میں بہت کچھ زبردست ہو چکا ہے اور یہ ایک ایسی پیاس ہے جو کبھی نہیں بجھتی ۔ جب آپ کوئی اچھی فلم یا کسی بڑی پرفارمنس کو دیکھتے ہیں تو آپ اسے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ اور میری فلم کو میرے ساتھی اداکاروں سے جو پذیرائی مل رہی ہے میرے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔‘

برطانوی اداکار ادریس ایلبا کو ان کے ڈرامہ ’لوتھر‘ میں ان کے کردار اور فلم ’بیسٹس آف نو نیشن‘ میں اداکاری پر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔