ول سمتھ آسکر تقریب میں شرکت نہیں کریں گے

اس سال میں آسکر ایوارڈ کے لیے زیادہ تر سفید فام فنکاروں کی نامزدگیوں پر تنازعے کے بارے میں ول سمتھ نے کہا کہ انھیں اس سال کے آسکرز کی تقریب میں شرکت کرنے میں ’عجیب‘ سا لگے گا
،تصویر کا کیپشناس سال میں آسکر ایوارڈ کے لیے زیادہ تر سفید فام فنکاروں کی نامزدگیوں پر تنازعے کے بارے میں ول سمتھ نے کہا کہ انھیں اس سال کے آسکرز کی تقریب میں شرکت کرنے میں ’عجیب‘ سا لگے گا

ہالی وڈ کے مشہور اداکار وِل سمتھ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ جاڈا پنکٹ سمتھ کے ساتھ 28 فروری کو منعقد ہونے والی آسکر کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

اس سال میں آسکر ایوارڈ کے لیے زیادہ تر نامزدگیاں سفید فام فنکاروں کی ہوئی ہیں، جس پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ول سمتھ، جو خود سیاہ فام ہیں، انھوں نے کہا کہ انھیں اس سال کے آسکرز کی تقریب میں شرکت کرنے میں ’عجیب‘ سا لگے گا۔

انھوں نے پروگرام ’گڈ مارننگ امیریکا‘ کے میزبان رابن رابرٹس کو بتایا کہ ’ہمیں وہاں پر جا کر عجیب لگے گا کیونکہ ایسا کرنا اس بات کو قبول کرنے کے مترادف ہو گا۔‘

اس بڑھتے ہوئے تنازعے سے کمیڈیئن کرس براؤن پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ آسکرز کی تقریب کی میزبانی نہ کریں۔

جمعرات کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں سمتھ نے کہا کہ ’امریکہ کی سب سے بڑی طاقت‘ تنوع ہے اور یہ کہ ’ہالی وڈ اسی خوبصورتی کو فلموں کی شکل میں ڈھالتا ہے۔‘

جمعرات کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں سمتھ نے کہا کہ ’امریکہ کی سب سے بڑی طاقت‘ تنوع ہے اور یہ کہ ’ہالی وڈ اس خوبصورتی کو فلموں کی شکل میں ڈھالتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجمعرات کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں سمتھ نے کہا کہ ’امریکہ کی سب سے بڑی طاقت‘ تنوع ہے اور یہ کہ ’ہالی وڈ اس خوبصورتی کو فلموں کی شکل میں ڈھالتا ہے‘

اس سال بہترین اداکار کے لیے نامزد ہونے والے تمام کے تمام اداکار سفید فام ہیں۔ ول سمتھ نے اس بارے میں کہا کہ ’یہ بات اس خوبصورتی کی عکاسی نہیں کرتی۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’تمام لوگ خوبصورت ہیں اور انعام کے حقدار ہیں اور سب اچھا ہے، لیکن تب بھی لگتا ہے کہ سب کچھ غلط راستے پر جا رہا ہے۔‘

ول سمتھ نے کہا کہ ’تقسیم، اور نسلی اور مذہبی انتشار کا رجحان بڑھ رہا ہے اور میں اس قسم کا ہالی وڈ چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔‘

کچھ لوگوں کو توقع تھی کہ سمتھ کو، جنھیں ماضی میں دو مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے، اس سال اپنی فلم ’کن کشن‘ کے لیے بھی نامزد کیا جائے گا جس میں وہ ایک ایسے ڈاکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں جو امریکی فٹبالروں کے سر پر لگنے والی چوٹوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

’انڈی پینڈنس ڈے‘ میں کام کرنے والے اداکار سمتھ کا کہنا تھا کہ ان کا کردار ’اس بحث کا چھوٹا سا حصہ ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ صرف میرے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اُن بچوں کے بارے میں ہے جو آسکرز کا شو دیکھیں گے اور اپنی نمائندگی ہوتی ہوئی نہیں دیکھیں گے۔‘

ول سمتھ کا بیان آسکر نامزدگیوں کے بارے میں ہونے والی تنقید پر مزید تیل چھڑکنے کے مترادف ہو گا۔