’عامر خان تو بھاگ جائے گا، غریب کہاں جائے؟‘

اوم پوری نے پاکستان میں اپنی پہلی فلم سائن کی ہے

،تصویر کا ذریعہsalim rizvi

،تصویر کا کیپشناوم پوری نے پاکستان میں اپنی پہلی فلم سائن کی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بھارت کے نامور اداکار اوم پوری نے اعتراف کیا ہے کہ بالی وڈ میں بننے والی فلمیں وہاں کے معاشرے کی عکاسی نہیں کر رہیں، اور اِن کا مقصد صرف جادو دکھانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں آرٹ فلموں کے معتبر نام اوم پوری کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ بھارت میں آرٹ فلمیں بالکل نہیں بن رہیں۔

’ابھی پرکاش جھا نے چکر ویو بنائی جو کہ صحیح حالات پر ہے، لیکن اب آرٹ فلم کا بجٹ بڑا ہوتا ہے اور اِس میں بڑے ستارے ہوتے ہیں۔ ان فلموں کی تعداد کم ضرور ہے جو سنجیدہ ہوں اور سماج کے مسائل کے بارے میں بات کریں، شیام بینیگل، گووند نہالانی، منہال سین، ستجیت رے اور کیتن مہتا جیسے لوگوں نے جو ہارڈ ہٹنگ سینما بنایا تھا وہ اب نہیں بن رہا۔

بالی وڈ کے اس سینیئر اداکار کا کہنا ہے کہ آرٹ فلموں کی کمی کا ذمہ دار ناظرین کو نہیں ٹھہرانا چاہیے: ’فلموں میں مزاح ہونا چاہیے جس سے لوگ ہنسیں۔ ہمارے مشہور کارٹونسٹ تھے آر کے لچھمن، سنجیدہ بات کہتے تھے ہنسی بھی آتی تھی۔ ’جانے بھی دو یارو‘ ایک سنجیدہ فلم ہے لیکن خوب ہنساتی ہے۔

’یا تو فلم بہت ڈرامائی ہو جس میں آپ تجسس کے ذریعے کوئی بات کریں جیسے آکروش میں کی گئی، یا پھر اردھ ستے میں کی گئی، جس کو دیکھ کر ہندوستان کا ہر آدمی سمجھتا ہے کہ یہ تو اس کی بات ہے۔ یا تو جذباتی فلم ہو تب ہی یہ فلم چل سکتی ہے۔‘

اوم پوری نے پاکستان میں اپنی پہلی فلم سائن کی ہے۔ وہ ’ایکٹر ان لا‘ میں مرکزی کردار ادا کریں گے، جس کی ان دنوں شوٹنگ جاری ہے۔

اوم پوری کا کہنا ہے کہ ابھی تک انھوں نے جو عکس بندی کرائی ہے یا سکرپٹ پڑھا ہے، اِس کا مضمون بالکل آرٹ فلم جیسا ہے، اُس کی جو پیشکش ہے، وہ اِس کو دلچسپ بنانے کے لیے ہے۔ جیسے کہ ماضی میں گرودت، محبوب خان، بے شانتا رام، راج کپور نے بہت اچھی فلمیں بنائی اور اُن میں گانوں اور موسیقی کا سہارا لیا تو اِنھوں نے بھی ان چیزوں کا استعمال دلچسپ طریقے سے کیا ہے لیکن فلم بہت مثبت ہے اور آخر میں سنجیدہ پیغام دیتی ہے۔

اوم پوری چار بار پاکستان آ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلینٹ کی کمی نہیں ہے، فلم ’خدا کے لیے،‘ ’بول‘ اور ’خاموش پانی‘ بہت بہترین موضوع پر بنی ہوئی میچیور فلمیں تھیں اور یہاں کے ڈرامے تو ہندوستان میں بھی لوگ دیکھتے تھے۔ درمیان میں تھوڑا وقفہ ضرور تھا اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

’یہاں کی سرحدیں چھوٹی ہیں تو آپ کو بجٹ کم رکھنا پڑے گا، آپ کوئی شاہکار بنانے کی نہیں سوچ سکتے، اُس کے لیے ہندوستان بہت بڑی مارکیٹ ہے اور میرا خیال ہے کہ کوئی نہ کوئی ہمت کرے گا۔ جیسے ’خدا کے لیے‘ جب ہندوستان پہنچی تو وہاں بہت ہٹ ہوئی۔‘

بھارت میں عدم برداشت کے واقعات پر اوم پوری نے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ انھوں نے نامور اداکار عامر خان کے بیان کی بھی مذمت کی تھی

،تصویر کا ذریعہSPICE

،تصویر کا کیپشنبھارت میں عدم برداشت کے واقعات پر اوم پوری نے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ انھوں نے نامور اداکار عامر خان کے بیان کی بھی مذمت کی تھی

اوم پوری نے بتایا کہ بھارت میں بھی جو چھوٹی فلمیں ہیں اُن کا بھی حال اچھا نہیں۔ ’تقسیم کار چونکہ کاروباری لوگ ہیں تو اُن کے دل میں سینما کی بھلائی کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ میں نے مشورہ دیا تھا کہ جو فلمیں تھیئٹر میں ریلیز نہیں ہو پاتیں کم از کم انھیں ٹیلی ویژن پر دکھایا جائے تاکہ لوگوں تو پہنچیں اور ٹیلیویژن اور خاص طور پر دور درشن کی پہنچ چینلوں سے کہیں زیادہ ہے۔‘

بھارت میں عدم برداشت کے واقعات پر اوم پوری نے افسوس کا اظہار کیا اور ساتھ میں انھوں نے نامور اداکار عامر خان کے بیان کی بھی مذمت کی تھی۔

اوم پوری کے مطابق انھوں نے عامر خان کو کہا کہ آپ نے ایسا تاثر دیا ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور ہر شہر میں مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔ ’آپ کو ہندوستان نے اتنا پیار دیا ہے، گذشتہ دو ڈھائی دہائیوں سے آپ راج کر رہے ہو۔

’آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی بیوی کہتی ہیں کہ بڑا عدم تحفظ ہے، ہمیں یہ دیش چھوڑ کر چلا جانا چاہیے، یہ بات کر کے ملک کے 22 کروڑ مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ لڑو یا بھاگ جاؤ اب آپ جیسے پیسے والا تو بھاگ جائے گا لیکن غریب کہاں جائے گا؟‘

اوم پوری کا کہنا تھا کہ شاہ رخ خان، عامر خان، عرفان خان اور سیف علی خان سب مسلمان ہیں اور عوام اِن سے پیار کرتے ہیں اور صرف مسلمان ہی اِن کی فلمیں نہیں دیکھتے بلکہ ہندو بھی دیکھتے۔

’میرا ماننا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں 99 فیصد لوگ سیکیولر ہیں جو امن و سکون چاہتے ہیں تاکہ ہم لوگ ترقی کریں۔

اوم پوری پر امید ہیں کہ بھارت کا سیکیولر تشخص تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ احساس ہے کہ اگر اُنھوں نے ہندوستان کے سیکیولر نظام سے چھیڑ خانی کی تو وہ گدی پر نہیں رہیں گے۔

’پنجاب کی دو کروڑ آبادی ہے اور اُن میں سے 30 سے 40 ہزار لوگوں نے اُن کی ناک میں دم کر کے رکھا تھا۔ تو اُن کو پتہ ہے کہ دوسری قوم کے لوگوں کو چھیڑنا سود مند نہیں ہے۔

اوم پوری کا کہنا ہے کہ بی جے پی، کانگریس کے کام نہ کرنے کی وجہ سے آئی ہے۔ ’مودی نے انڈیا میں بڑی کامیابی حاصل کی لیکن دہلی میں لوگوں نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو پنکچر کر دیا، اور یہ ہی بہار میں ہوا تو بی جے پی کو احساس ہے کہ اگر ہم اوقات میں نہیں رہیں گے تو ملک پر حکمرانی نہیں کر سکتے۔‘