آسکر ایوارڈز کے لیے پاکستان سے ’مور‘ کی نامزدگی

یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب پاکستان آسکر ایوارڈز کے لیے فلم نامزد کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہMOOR

،تصویر کا کیپشنیہ مسلسل تیسرا سال ہے جب پاکستان آسکر ایوارڈز کے لیے فلم نامزد کر رہا ہے

پاکستان میں آسکر ایوارڈز کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے 88 ویں آسکر ایوارڈز میں غیر ملکی زبان کی فلموں کی کیٹیگری میں پاکستان کی جانب سے نامزدگی کے لیے فلم ’مور‘ کو منتخب کیا ہے۔

’مور‘ پشتو زبان میں ماں کو کہتے ہیں اور یہ فلم بلوچستان میں ریلوے کی تباہی کے موضوع پر بنائی جانے والی ایک منفرد فلم ہے۔

اسے جمشید محمود رضا نے جو جامی کے نام سے جانے جاتے ہیں بطور پروڈیوسر اور ہدایت کار تخلیق کیا ہے۔

واضح رہے کہ 87 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے بیرونی فلموں کی کیٹیگری میں 83 فلمیں نامزد کی گئی تھیں۔

آسکر ایوارڈز کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب پاکستان آسکر ایوارڈز کے لیے فلم نامزد کر رہا ہے۔

اس سے پہلے سال 2013 میں ’زندہ بھاگ‘ اور 2014 میں ’دختر‘ کو پاکستان کی جانب نامزد کیا گیا تھا تاہم یہ دونوں فلمیں حتمی نامزدگی کی فہرست میں جگہ نہیں بنا پائی تھیں۔

پاکستان میں آسکر ایوارڈز نامزدگی کے لیے ایک کمیٹی ہے جس کی سربراہ شرمین عبید چنائے ہیں جو خود آسکر اور ایمی ایوارڈ یافتہ ہدایتکار اور فلمساز ہیں۔

ان کے علاوہ اس کمیٹی میں موسیقار روحیل حیات، فیشن ڈیزائنر ماہین خان، اداکار علی خان، اداکارہ آمنہ شیخ، فلم ساز مظہر زیدی اور ہدایت کارہ عافیہ نتھانیل اور مصنف دانیال محی الدین شامل ہیں۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق ’مُور‘ کے بارے میں شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے کہ یہ فلم پاکستان کے سینما کو وسعت دیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ فلم ایک دعوتِ نظارہ ہے جو ہمیں اس زمین کی یاد دلاتی ہے جس کے بارے میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

مظہر زیدی کا کہنا ہے کہ اس فلم کی سینیماٹوگرافی انتہائی اعلٰی ہے انہیں امید ہے کہ یہ دنیا بھر میں دیکھنے والوں کو بہت پسند آئے گی۔

اکیڈمی ایوارڈز کی سلیکشن کمیٹی حتمی طور پر نامزد فلموں کے ناموں کا انتخاب 8 جنوری تک کرے گی جس کا اعلان 14 جنوری کو کیا جائے گا۔