’زندہ بھاگ‘ پاکستان سے آسکرز کے لیے نامزد

پاکستانی فلم’زندہ بھاگ‘ کو اس سال پاکستان سے آسکر انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
’زندہ بھاگ‘ کو آسکر انعام میں بہترین غیر ملکی فلم کی کیٹیگری میں بھیجا جائے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں آسکر کمیٹی کی چیئرمین اور خود آسکر انعام یافتہ فلمساز شرمین عبید چنائے نے بتایا کہ ’زندہ بھاگ‘ کو اس سال آسکر اکیڈمی کو بھیجا جائے گا۔
یاد رہے کہ پہلی پاکستانی فیچر فلم ہے جو آسکر کے لیے بھوائی جا رہی ہے۔
اس سال شرمین عبید چنائے کی سربراہی میں پاکستان سے آسکر کے لیے فلم نامزد کرنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے پچیس اگست تک پاکستانی فلموں کی نامزدگیاں وصول کیں اور ان پر غور کیا۔
’زندہ بھاگ‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اس فلم میں مرکزی کردار بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ ادا کر رہے ہیں۔ اس فلم کے پروڈیوسر مظہر زیدی اور ہدایت کار مینو گور اور فرجاد نبی ہیں۔
مظہر زیدی نے ماضی میں توقع ظاہر کی تھی کہ فلم پاکستانی فلمی صنعت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ نصیر الدین شاہ کے شکر گذار بھی ہیں کیوں کہ انھوں نہ صرف فلم میں کام کیا بلکہ فلم میں شامل اداکاروں کے لیے ایک تربیتی ورکشاپ بھی کیا، جس کی وجہ سے اداکاروں کو یقینًا بہت مدد ملی ہو گی۔
اس فلم کی کہانی لاہور کے تین نوجوانوں کے گرد گھومتی ہے اور پنجابی اور اردو میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم کے ٹریلر سے کہانی کا جو خیال سامنے آتا ہے اس کے مطابق یہ تین نوجوان اپنا مستقبل بنانے کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے وہ ان کا سہارا لیتے ہیں جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجتے ہیں اور باہر کی دنیا کے بارے میں وہ سنہرے خواب دکھاتے ہیں جو بے بنیاد ہوتے ہیں۔
یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس فلم میں مزاح کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
ہمارے نامہ نگار انور سن رائے کا کہنا ہے کہ ٹریلر کو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کی سنیماٹوگرافی انتہائی عمدہ ہو گی۔ یہ شعبہ ستیہ ناگ پال کی نگرانی میں تھا۔







