کیا ہارپر لی کا نیا ناول توقعات پر پورا اترے گا؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گذشتہ 55 برسوں سے ’ٹو کِل اے موکنگ برڈ‘ کی خالق ہارپر لی ایک ناول کی وجہ سے ہی مشہور تھیں۔ آئندہ منگل کو ان کے نئے ناول ’گو سیٹ اے واچ مین‘ کے آنے کے بعد ایسا نہیں رہے گا۔
گذشتہ ہفتے دو بڑے پبلشنگ ایگزیکٹیوز امریکی ریاست ایلاباما کے شہر مونروویل میں ہارپر لی کے گھر گئے۔
کارنرسٹون پبلشنگ کی سوزن سینڈن اور ولیئم ہیئنمین کے جیسن آرتھر نے 89 سالہ ناول نگار کو ان کے دوسرے ناول کی کاپی دی۔
پینگوئن رینڈم ہاؤس کی شارلٹ بش کہتی ہیں کہ ’وہ کتاب کی اشاعت کا انتظار کر رہی ہیں اور اشاعتی ٹیم کو دیکھ وہ خوش ہوئی تھیں۔‘
گذشتہ فروری میں اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ ہارپر لی کا ’ٹو کِل اے موکنگ برڈ‘ سے پہلے لکھے جانے والا ایک ناول ملا ہے اور اسے اس دہائی کی ایک بڑی ادبی سنسنی کہا گیا تھا۔
14 جولائی کو پوری دنیا میں کتابوں کی دکانیں اس کتاب کو خوش آمدید کہنے کے لیے خصوصی تقریبات منعقد کریں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
نیویارک میں اداکارہ میری بیدہم، جنھوں نے فلم ٹو کِل اے موکنگ برڈ میں مرکزی کردار سکاؤٹ کا کردار ادا کیا تھا، دونوں ناولوں سے اقتباسات پڑیں گی۔
برطانیہ میں بھی کتابوں کی دکانیں عام اوقات سے ہٹ کر اپنے دروازے کتاب خریدنے والوں کے لیے کھلے رکھیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن کا ایک سٹور امریکہ کے جنوبی علاقوں کو موضوع بنا کر ایک شام بھی منا رہا ہے جس میں جیز موسیقی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
اشاعتی ادارے دی بک سیلر کے فلپ جونز کہتے ہیں کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
لی نے گو سیٹ اے واچ مین 1950 کی دہائی کے وسط میں لکھا تھا لیکن ان کے مدیر نے ان سے کہا کہ وہ اسی ناول کے فلیش بیک پر مبنی ایک اور ناول لکھیں۔
اس طرح یہ کتاب ’ٹو کِل اے موکنگ برڈ‘ بنی جو اب ایک جدید کلاسک کا درجہ لے چکی ہے۔ اسے 1961 میں معتبر امریکی ادبی انعام پیولٹزر ملا اور اس کے اب تک چار کروڑ سے زیادہ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔
اس پر 1962 میں بننے والی فلم کو بھی تین آسکر ایوارڈ ملے تھے اور اس میں وکیل ایٹیکس فنچ کا کردار ادا کرنے والے گریگری پیک کو بہترین اداکار کا اعزاز ملا تھا۔
جب نئی کتاب سامنے آئی تو لی نے فروری میں کہا تھا کہ ’میں بہت شکر گزار اور حیران ہوں کہ یہ کتاب اب اتنے برسوں کے بعد چھپ رہی ہے۔‘







