’تنہائی کے سو سال‘ کا نایاب نسخہ چوری

،تصویر کا ذریعہAFP
نوبیل انعام یافتہ کولمبین ناول نگار گیبریل گارشیا مارکیز کے ناول ’تنہائی کے سو سال‘ کا دستخط شدہ پہلا ایڈیشن چوری ہوگیا ہے۔
کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کتاب میلے میں اس نایاب نسخے کو نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔
یہ کتاب میلہ گیبریل گارشیا مارکیز سے منسوب کیا گیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق اس کتاب کی قیمت 60 ہزار امریکی ڈالر ہے، تاہم اس کے مالک کا کہنا ہے کہ یہ ان کے نزدیک انمول ہے۔
کتاب میلے کے دوران سنیچر کی شام کو بوگوٹا کے کوفیریاز سینٹر سے ایک مقفل کیبنٹ سے غائب ہوگئی۔
جنوبی امریکہ میں سب سے زیادہ مقبول اس کتاب میلے کا مرکزی خیال ایک تصوراتی شہر ماکوندو سے ماخوذ تھا جس کا ذکر گارشیا مارکیز نے اپنے ناول ’تنہائی کے سو سال‘ میں کیا تھا۔
سنہ 1982 میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ادیب گیبریل گارشیا کی گذشتہ برس موت کے بعد ان کے ناولوں کے پہلے ایڈیشنز کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
سنہ 1967 میں شائع ہونے والے ناول ’تنہائی کے سو سال‘ کا پہلا نسخہ پرانی کتابوں کے ایک تاجر الوارو کاسٹیلو نے سنہ 2006 میں یوراگوئے کے دارالحکومت مونٹیوڈیو سے خریدا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعدازاں گیبریل گارشیا مارکیز نے اس کتاب پر اپنے دستخط کیے اور اسے الوارو کاسٹیلو کے نام یہ الفاظ لکھے تھے: ’الوارو کاسٹیلو کے لیے، پرانی کتابیں فروخت کرنے والا، آج اور ہمیشہ کے لیے، تمہارا دوست، گابو۔‘
پولیس نمائش کے مقام کی ویڈیو فوٹیج دیکھ رہی ہے تاکہ کتاب چوری کرنے والے کے بارے میں پتہ لگایا جا سکے۔







