مارکیز کی قوتِ حافظہ ختم ہو رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کولمبین مصنف گیبریئل گارسیا مارکیز کے بھائی کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو بیاسی کے نوبل انعام یافتہ ادیب یاداشت کھو رہے ہیں۔
جیمی گارسیا نے کارٹیجینا میں طلبہ کو ایک لیکچر میں بتایا کہ ان کے بھائی اکثر فون کر کے ان سے انتہائی بنیادی سوالات پوچھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائی کی قوتِ حافظہ میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ کبھی کبھی میں رو پڑتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے بھائی کو کھو رہا ہوں۔‘
جیمی گارسیا کے مطابق ان کے بھائی نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔
کولمبیا سے بی بی سی کے نامہ نگار ارتورو والس کا کہنا ہے کہ گیبریئل گارسیا کی قوتِ حافظہ میں مسائل کی افواہیں پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔
تاہم ان کے چھوٹے بھائی جیمی گارسیا ان کے خاندان کے پہلے شخص ہیں جس نے کھلے عام اس کا اعتراف کیا ہے۔
جب جیمی گارسیا کو اپنے بھائی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرنے کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کی بیماری کے بارے میں بات کرنے سے مزید نہیں رک سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ گیبریئل جسمانی طور پر صحت مند ہیں مگر انہیں بہت عرصے سے حافظے کے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ان میں آج بھی مزاح اور ہمیشہ کی طرح جوش و جذبہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گیبریئل گارسیا مارکیز کی سنہ انیس سو سڑسٹھ میں آنے والی مقبول ترین کتاب ’ون ہنڈرڈ ایئرز آف سولیٹیوڈ‘ (تنہائی کے سو سال) کی کہانی بھی ایک ایسے خاندان سے شروع ہوتی ہے جو کہ اپنے بزرگ کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔
کولمبیا میں گوبو کے نام سے جانے والے مصنف آج کل میکسیکو میں مقیم ہیں اور گزشتہ چند برس میں انہوں نے کسی عوامی تقریب میں شرکت نہیں کی۔







