سربجیت کی بہن کے کردار کے لیے ایشوریہ رائے

ایشوریہ رائے بچن بہت دنوں سے فلموں سے علیحدہ ہیں اور ایک بار پھر سے بالی وڈ میں واپسی کی خواہش مند ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایشوریہ رائے بچن بہت دنوں سے فلموں سے علیحدہ ہیں اور ایک بار پھر سے بالی وڈ میں واپسی کی خواہش مند ہیں

ایشوریا رائے بچن نے ماں بننے کے بعد جب سے فلموں میں واپسی کا اعلان کیا ہے تب سے ان کے پاس ہدایت کاروں کی قطار لگی ہوئی ہے۔

نیشنل ایوارڈ سے سرفراز ہدایتکار امنگ کمار کی فلم ’سربجیت‘ میں ہے دلبیر کور کے کردار کے لیے ایشوریا رائے بچن نے حامی بھر لی ہے۔

پہلے اس فلم میں کنگنا راناوت سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور کا کردار ادا کرنے والی تھیں جبکہ اس کی ہدایتکاری ہنسل مہتا کرنے والے تھے۔

اس فلم میں امیتابھ بچن کے کردار کی بھی بات سامنے آئی تھی جبکہ اس سلسلے میں اداکارہ پرینکا چوپڑہ کا نام بھی سامنے آ رہا تھا۔

اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے ہدایتکار امنگ کمار نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں کہا: ’پرینکا چوپڑہ کو سربجیت فلم کا آفر میں نے کبھی دیا ہی نہیں تھا۔ فلم کی اداکارہ ایشوریا رائے بچن ہیں۔ انھیں سکرپٹ بہت پسند آئی ہے۔‘

خیال رہے کہ دلبیر کور سربجیت سنگھ کی بہن ہیں جنھوں نے پاکستانی جیل سے سربجیت کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی۔

سربجیت کے اہل خانہ واگھا بارڈر پر نظر آ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسربجیت کے اہل خانہ واگھا بارڈر پر نظر آ رہے ہیں

فلم کے باقی سٹار کاسٹ کو ابھی منتخب نہیں کیا گيا ہے لیکن فلم کی شوٹنگ کا آغاز اکتوبر میں ہو گا۔

61 سالہ دلبیر کور سربجیت کی بڑی بہن ہیں جو پاکستان کی سرحد سے پانچ کلو میٹر فاصلے پر آباد گاؤں بھیکھی ونڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سنہ 1990 میں غلطی سے سربجیت بارڈر پار کرکے پاکستان پہنچ گئے تھے جہاں انھیں بھارتی جاسوس قرار دیا گیا اور دہشت گردی کے جرم میں انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

سربجیت کو 23 سال تک لاہور کی جیل میں رکھا گیا اور اس معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بھی نظر آئی۔

بھارتی جیل میں کشمیری قیدی افضل گورو کی پھانسی کے بعد سربجیت کی جیل کے ہی بعض قیدیوں نے انھیں مئی سنہ 2013 میں قتل کر دیا۔

دلبیر کور کی پوری زندگی اپنے بھائی کی رہائی کی کوشش میں گذری اور ان کی اسی جدوجہد کو ڈائریکٹر امنگ کمار نے پردۂ سیمیں پر پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔