بھارت میں اقبال کے لیے بعد از مرگ ایوارڈ

،تصویر کا ذریعہP M TIWARI
بھارت کی شمال مشرقی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ’سارے جہاں سے اچھا۔۔۔‘ کی تھیم پر منعقد ’جشنِ اقبال‘ کے پہلے دن شاعر مشرق علامہ اقبال کو بعد از مرگ ’ترانۂ ہند‘ کے اعزاز سے نوازا۔
اقبال کے لیے یہ اعزاز ان کے پوتے وليد اقبال نے قبول کیا جبکہ پروگرام کی نظامت اپنے زمانے کے معروف اداکار رضا مراد نے اپنی پاٹ دار آواز میں کیا۔
مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے تین روزہ پروگرام ’جشنِ اقبال‘ کا آغاز جمعے کو ہوا جبکہ آج اس کا آخری دن ہے۔
ولید اقبال نے اپنے دادا کو دیا جانے والا اعزاز قبول کرتے ہوئے کہا: ’ترانہ سارے جہاں سے اچھا آج بھی اسی قدر مقبول ہے جس قدر تخلیق کیے جانے کے وقت تھا۔ انھوں نے سارے جہاں سے اچھا کا جو خواب دیکھا اور اپنے کلام میں جو کچھ تحریر کیا اس کے اثرات آج کے ہندوپاک پر بھی اسی طرح مرتب ہونے چاہیے کہ ان کے تعلقات بھی سارے جہاں سے اچھے ہوں کیونکہ یہ نظم متحدہ ہندوستان کے لیے تخلیق کی گئی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہPRABHAKAR MANI TIWARI
اس موقعے پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اکیڈمی کی جانب سے ’پاسبان اردو‘ کا خطاب دیا گیا۔ انھوں نے اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا آئینی طور پر دیا اور اکیڈمی کا سالانہ بجٹ 80 لاکھ سے بڑھا کر 10 کروڑ کردیا۔
اس پروگرام پر اگر ایک جانب کئی طرح کے سوال اٹھائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف اس سے ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کے خالق علامہ سر محمد اقبال سے منسلک کچھ فسانے بھی سامنے آ رہے ہیں۔
سیاست کی چاشنی میں ادب؟
مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ سے ہمارے نمائندے پی ایم تیواری نے بتایا کہ اقبال کی یاد میں اچانک ممتا کی جانب سے ایسے شاندار پروگرام کے انعقاد اور اس میں شرکت کے لیے اقبال کے پوتے کو راتوں رات ویزا ملنے سے کئی سوال پیدا ہوئے ہیں۔
اس موقع پر ممتا نے ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی وکالت تو کی ہی، عالیہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے قیام اور محمد اقبال کے اعزاز میں ایک چیئر قائم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہP M TIWARI
سیاسی ماہرین کو ممتا کی اس پہل میں سیاسی رنگ نظر آ رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار سونند گھوش کہتے ہیں: ’مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے بینر تلے اچانک اقبال کو یاد کرنا اگلے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اقلیتوں کو لبھانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مغربی بنگال کی وزریر اعلی ممتا بنرجی کی پہل اور بھارتی وزیر اعظم مودی کی دلچسپی کی وجہ سے ہی وليد کو آنا فانا یہاں آنے کے لیے ویزا مل گیا۔‘
لیکن اکیڈمی سے منسلک ترنمول کانگریس کے رہنما نديم الحق اس بات کو مسترد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے: ’اس پروگرام کا مقصد ایک عظیم شاعر کو یاد کرنا ہے۔ ساتھ ہی اس سے ریاست میں اردو کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ اس کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔‘
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ ادب اور ثقافت کو کسی حد میں نہیں باندھا جا سکتا ہے۔
اس موقعے پر وليد اقبال نے کہا: ’ایسے ادبی و ثقافتی تقریبات سے دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کو قریب سے جاننے سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس سے باہمی تعلقات میں قربت پیدا ہوگی۔‘

،تصویر کا ذریعہP M TIWARI
بھارت میں اقبال پر طویل خاموشی کے نتیجے میں ان کے متعلق کئی فسانے بنا دیے ہیں۔ مثلاً وہ فرقہ پرست اور ہندی زبان کے مخالف تھے۔
اقبال کا ذکر ہوتے ہی یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا اقلیتوں کے لیے علیحدہ ملک پاکستان کے قیام کا خیال ان ہی کی دین تھی؟
ان کے پوتے وليد اقبال نے ان میں سے کم از کم ایک سوال کا جواب تو دے ہی دیا۔
وليد نے کہا: ’میرے داداجان محمد اقبال نے پاکستان کا خواب ضرور دیکھا تھا لیکن وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ دونوں ممالک کا باہمی تعلق سارے جہاں سے اچھا ہو۔‘
اردو اکیڈمی میں اقبال کی نایاب تصاویر کی ایک نمائش بھی لگائی گئی ہے۔ اس دوران سنیچر کو منعقد بین الاقوامی سیمینار میں اقبال کی زندگی اور کام پر تحقیقی مقالے پڑھے گئے۔
پروگرام کا اختتام اتوار کو شاعر مشرق کی یاد میں منعقد ایک بڑے مشاعرے سے ہوگا۔







