وکی لیکس نے سونی کی چوری شدہ دستاویزات شائع کر دیں

،تصویر کا ذریعہAFP
وکی لیکس نے فلم ساز ادارے سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ کی وہ لاکھوں ای میلز اور دستاویزات شائع کر دی ہیں جو گذشتہ برس ایک سائبر حملے میں چرائی گئی تھیں۔
ان دستاویزات میں بظاہر کمپنی کی برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر اور ہالی وڈ کی اہم شخصیات سے بات چیت کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔
سونی نے وکی لیکس کی جانب سے دستاویزات کی اشاعت کی ’شدید مذمت‘ کی ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم وکی لیکس کے اس دعوے سے بالکل متفق نہیں ہیں کہ یہ مواد عوامی ڈومین کا حصہ ہے۔‘
وکی لیکس کی جانب سے افشا کیے جانے والے مواد میں ایک لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ای میلز اور 20 ہزار سے زیادہ دستاویزات شامل ہیں۔
وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانژ نے سونی کی دستاویزات کی اشاعت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بتاتی ہیں کہ ایک کثیرالقومی کمپنی کیسے کام کرتی ہے اور کیسے وہ ایک ’جیو پولیٹیکل‘ تنازعے کا مرکزی حصہ تھی۔
گذشتہ سال 24 نومبر کوگارڈیئن آف پیس’جی او پی‘ نامی گروپ کے ہیکروں نے سونی کمپنی کے کمپیوٹروں سے حساس معلومات چرا کر انھیں عام کر دیا تھا لیکن انھیں انٹرنیٹ پر آسانی سے تلاش کرنا ممکن نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ سائبر حملہ اس وقت ہوا تھا جب سونی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے بارے میں اپنی متنازع فلم ’دی انٹرویو‘ ریلیز کرنے والی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سونی پکچرز پر حملہ کرنے والے ہیکروں نے سینیما گھروں کو تنبیہ کی تھی کہ اس فلم کی نمائش سے باز رہیں۔اس دھمکی کے بعد فلم کی ریلیز روک دی گئی تھی تاہم بعد کرسمس پر اسے منتخب سینما گھروں اور انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا تھا۔
شمالی کوریا نے اس وقت اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی تاہم اسے ایک ’صحیح قدم‘ قرار دیا تھا۔
تاہم امریکہ نے اس سائبر حملے کے تناظر میں شمالی کوریا پر رواں برس جنوری میں نئی پابندیاں لگائی تھیں۔
امریکہ کے خیال میں شمالی کوریا نے اپنے رہنما کم جونگ کے قتل کے منصوبے پر مبنی مزاحیہ فلم دی انٹرویو بنانے پر سونی پکچرز کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ رواں ماہ ہی صدر اوباما نے ایسے پروگرام کی تشکیل کا حکم دیا ہے جس کی مدد سے امریکی حکومت غیر ملکی ہیکروں پر پابندیاں لگا سکے گی۔







