سونی پکچرز کی اعلیٰ اہلکار ای میلز افشا ہونے پر مستعفی

ایمی پاسکل نے تحریری طور پر معافی مانگی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایمی پاسکل نے تحریری طور پر معافی مانگی ہے

سونی پکچرز کی اعلیٰ اہلکار ایمی پاسکل نے سائبر حملے کے نتیجے میں اپنی ذاتی ای میلز منظرعام پر آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سونی مووی سٹوڈیوز کی شریک چیئرپرسن ایمی پاسکل اب ایک پروڈکشن کمپنی شروع کر رہی ہیں اور اس کا افتتاح رواں سال مئی میں ہو گا۔

وہ پہلے ہی ای میلز میں افشا ہونے والی کئی معلومات پر معافی مانگ چکی ہیں۔

گذشتہ ماہ سونی نے سائبر حملے کی شدید مذمت کی تھی جس کے نتیجے میں اس کی فلم ’دی انٹرویو‘ کی نمائش رک گئی تھی۔

ایمی پاسکل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’میں نے اپنی تقریباً تمام پیشہ وارانہ زندگی سونی پیکچرز میں گزاری ہے اور مجھے حوصلہ ملا ہے کہ اس کمپنی کی بنیاد پر جسے میں گھر کہتی ہوں، ایک نیا باب شروع کروں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی پروڈکشن کے شبعے میں جانے کے بارے میں بات کی گئی تھی۔

ایمی سے معاہدے کے تحت سونی ان کی نئی پروڈکشن کمپنی کو کم از کم چار سال تک سرمایہ فراہم کرے گا جب کہ ڈسٹری بیوشن کے حقوق بھی ایمی کے پاس ہی رہیں گے۔

سونی نے ابھی ایمی کے جانشین کا اعلان نہیں کیا ہے اور اس وقت ہالی وڈ کے ایک بڑے پروڈکشن سٹوڈیوز کے واحد سربراہ مائیکل لینٹن ہیں۔

پاسکل ایمی کی سائبر حملے کے نتیجے میں منظرعام پر آنے والی ای میلز میں سے ایک میں انھوں نے حقارت آمیز الفاظ میں صدر اوباما کے دیکھنے کی عادات کے بارے میں اپنے پروڈیوسر سکاٹ روڈن کو لکھا تھا۔

سونی پکچرز پر سائبر حملے دی انٹرویو کے ریلیز سے پہلے کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسونی پکچرز پر سائبر حملے دی انٹرویو کے ریلیز سے پہلے کیا گیا تھا

پاسکل اور روڈن دونوں نے ای میلز پر معافی مانگی ہے تاہم ایمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’سکاٹ کو بھیجی جانے والی میری ای میلز کا مواد بے حس اور نامناسب تھا لیکن میں جو ہوں، یہ اس کے بارے میں ٹھیک عکاسی نہیں کرتی ہیں۔‘

’اگرچہ یہ نجی طور پر کی جانے والی بات چیت تھی جو کہ چوری ہو گئی، میں اس کی تمام ذمہ داری قبول کرتی ہوں اور میں نے تحریری طور پر ان سے معافی مانگی ہے جن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔‘

گذشتہ سال 24 نومبر کوگارڈیئن آف پیس’جی او پی‘ نامی گروپ کے ہیکروں نے سونی کمپنی کے کمپیوٹروں سے حساس معلومات چرائی تھیں اور انھیں عام کر دیا تھا۔ اس گروپ کی کڑی بعد میں شمالی کوریا سے ملی تھی۔ امریکہ کے خیال میں شمالی کوریا نے اپنے رہنما کم جونگ کے قتل کے منصوبے پر مبنی مزاحیہ فلم دی انٹرویو بنانے پر سونی پکچرز کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا۔

سونی پکچرز پر حملہ کرنے والے ہیکرز نے تنبہ کی تھی کہ اس فلم کو دیکھنے سے باز رہیں۔اس دھمکی کے بعد فلم کی ریلیز روک دی گئی تھی تاہم بعد کرسمس پر اسے منتخب سینما گھروں اور انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا تھا۔