فلم کی ریلیز پر شمالی کوریا اوباما پر برس پڑا

،تصویر کا ذریعہEPA
شمالی کوریا نے ’دا انٹرویو‘ فلم کی ریلیز کے لیے امریکی صدر براک اوباما کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی ہے۔
سونی پکچرز کی یہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کے پلاٹ پر مبنی ہے۔
ملک کے قومی دفاعی کمیشن (این ڈی سی) نے امریکہ پر ملک کا انٹرنیٹ بند کرنے کا بھی الزام لگایا ہے اور صدر اوباما کے لیے ایک نسلی گالی کا استعمال کرتے ہوئے انھیں ’لا پروا‘ بتایا ہے۔
واضح رہے کہ سونی پکچرز نے ایک سائبر حملے کے بعد اس فلم کی ریلیز روک دی تھی، لیکن پھر اس نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے کرسمس کے موقعے پر جمعرات کو منتخب سینیما ہالوں کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی ریلیز کیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
صدر اوباما کے ساتھ ساتھ بہت سے ناقدین کا خیال تھا کہ اگر فلم کی رونمائی نہ ہوئی تو یہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے خطرہ ہوگا۔
اس فلم کا بڑے پیمانے پر تجزیہ کیا گیا ہے اور اسے وسیع پیمانے پر ’مزاحیہ اور زیرک‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس فلم میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ’خطرناک مغرور مسخرے‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلم کسی طرح سمگل ہو کر شمالی کوریا پہنچ گئی تو یہ بہت طاقتور ثابت ہو گی۔
سنیچر کو ایک بیان میں این ڈی سی کے ترجمان نے فلم کی ریلیز کے لیے امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس غیر ایماندار اور رجعت پسند فلم کے ذریعے ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے رہنما توہین کی گئی ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی کو ہوا دینا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بیان میں کہا گیا کہ صدر اوباما اس کے فعل کے اہم مرتکب ہیں جنھوں نے امریکہ میں سینیما کو بلیک میل کرتے ہوئے سونی پکچرز کو فلم کی ریلیز کے لیے مجبور کیا۔
بیان میں مزید کہا گيا: ’اوباما ہیمشہ اپنے الفاظ کے استعمال میں غیر محتاط رہے ہیں اور استوائی جنگل کے بندروں کی طرح حرکتیں کرتے رہے ہیں۔‘
این ڈی سی نے سونی پکچرز کی ہیکنگ کے معاملے پر ’شمالی کوریا پر بے بنیاد الزام لگانے‘ کے لیے واشنگٹن پر کڑی تنقید کی۔
واضح رہے کہ اس فلم کو کرسمس کے موقعے پر ہی ریلیز کیا جانا تھا اور ہیکروں نے اس کی ریلیز کے خلاف دھمکی دی تھی۔







