ٹاپ گیئر کے میزبان جیریمی کلارکسن کی معطلی

بی بی سی کے موٹر شو ’ٹاپ گیئر‘ کے شریک میزبان جیریمی کلارکسن ماضی میں بھی تنازعات کی زد میں آ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے موٹر شو ’ٹاپ گیئر‘ کے شریک میزبان جیریمی کلارکسن ماضی میں بھی تنازعات کی زد میں آ چکے ہیں۔

بی بی سی نے اپنے مقبول پروگرام ’ٹاپ گیئر‘ کے میزبان جیریمی کلارکسن کو پروگرام کے ایک پروڈیوسر سے ’لڑائی‘ کے بعد معطل کر دیا ہے۔

54 سالہ کلارکسن کا شمار چینل کے مقبول ترین میزبانوں میں ہوتا ہے اور وہ معاملے کی تحقیقات تک معطل رہیں گے۔

بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ کسی اور فرد کو معطل نہیں کیا گیا اور اس اتوار کو ’ٹاپ گیئر‘ پروگرام نشر نہیں کیا جا سکے گا۔

کلارکسن کو گذشتہ برس مئی میں اسی پروگرام کی فلم بندی کے دوران نسل پرستانہ کلمات کی ادائیگی پر بھی سخت تنبیہ کی گئی تھی۔

اس وقت کلارکسن نے کہا تھا کہ بی بی سی نے انھیں بتا دیا ہے کہ آئندہ ’کہیں بھی اور کبھی بھی انھوں نے<link type="page"><caption> ایسا ایک بھی فقرہ ادا کیا تو انھیں برخاست کر دیا جائے گا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/05/140505_clarkson_bbc_warning_n_word_mb" platform="highweb"/></link>۔‘

بی بی سی نے کلارکسن کی تازہ لڑائی کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی ہیں اور کلارکسن بھی اس سلسلے میں خاموش ہیں۔

تاہم برطانوی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق جیریمی نے پروگرام کے ایک مرد پروڈیوسر کو گھونسہ مارا تھا۔

بی بی سی کا موٹر شو ’ٹاپ گیئر‘ ماضی میں بھی تنازعات کی زد میں آ چکا ہے۔

2014 میں کلارکسن پر 2012 میں فلمائے گئے ایک پروگرام کے دوران بچوں کا معروف گیت ’اینی مینی مائنی مو‘ پڑھتے ہوئے نسل پرستانہ لفظ کے استعمال کا الزام لگا تھا۔

سنہ 2012 میں ہی لندن میں بھارت کے ہائی کمیشن نے شکایت کی تھی کہ ’ٹاپ گیئر‘ نامی پروگرام کا بھارت میں کیا جانے والا شو توہین آمیز تھا۔

اس سے پہلے اپریل سنہ 2011 میں ٹاپ گیئر کے ایک پروگرام پر اس وقت تنقید کی گئی جب اس میں میکسیکو کے لوگوں کو سُست اور ناکارہ جبکہ میکسیکو کے کھانوں کو بدمزا قرار دیا گیا۔

تاہم اس پروگرام کو نشریات کے نگراں ادارے آف کوم نے الزمات سے بری کر دیا تھا۔