’چیخ چیخ کر کہہ چکا ہوں میں پاکستانی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہJAVED ALI
بھارت کے مشہور گلوکار جاوید علی کو بیرون ملک كنسرٹ کرنے کے لیے ویزا نہیں مل رہا ہے۔
وہ کئی ممالک کے سفر پر جانا چاہتے ہیں لیکن ویزا نہ ملنے کی وجہ سے ان کے كنسرٹ كھٹائي میں پڑ جاتے ہیں۔
بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں جاوید علی نے کہا: ’شاید میرے نام کی وجہ سے مجھے ویزا نہیں مل رہا۔ کافی محنت کے بعد مجھے ٹورسٹ ویزا ملا ہے، لیکن میوزک كنسرٹ کرنے کے لیے پی تھری ویزا چاہیے۔‘
جاوید علی کہتے ہیں کہ اب بھی بہت سے لوگ انھیں پاکستانی گلوکار سمجھتے ہیں۔
’میں کتنی بار چیخ چیخ کر بتا چکا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں۔ امید ہے کہ دوبارہ کوئی یہ سوال نہیں کرے گا۔‘
’دہلی 6،‘ ’گجنی،‘ ’بنٹی اور ببلی‘ اور ’تم ملے‘ جیسی فلموں میں جاوید کے گائے ہوئے گانے بہت مشہور ہوئے تھے۔
وہ پاکستانی غزل گلوکار غلام علی کے پرستار ہیں۔
جاوید علی کا خیال ہے کہ موسیقار اے آر رحمان نے ان کی بہت مدد کی ہے۔ وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں: ’وہ گلوکار کو بہت پرسکون رکھتے ہیں۔ موسیقی کو وہ دعا کی طرح لیتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے آر رحمان کے علاوہ جاوید کو پریتم اور امت ترویدی کے ساتھ کام کرنا بہت پسند ہے۔
گلوکاروں کے ویڈیو البم لانے کے بارے میں جاوید کہتے ہیں: ’یہ فیشن تقریباً ختم ہو رہا ہے کیونکہ لوگ گلوکاروں کو دیکھنے کے بجائے ہیرو یا ہیروئین کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود میں اپنا البم لانا چاہتا ہوں۔‘







