’میسنجر آف گاڈ‘ فلم پر بھارتی سنسر بورڈ کی سربراہ مستعفی

لیلا سیمسن نے گذشتہ اگست میں بورڈ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا

،تصویر کا ذریعہleela samson

،تصویر کا کیپشنلیلا سیمسن نے گذشتہ اگست میں بورڈ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا

بھارت میں سنسر بورڈ کی سربراہ لیلا سیمسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا یہ استعفیٰ اس فلم کی ریلیز کی منظوری کے بعد آیا ہے جس کو ان کے پینل نے مسترد کردیا تھا۔

لیلا سیمسن نے ایک گرو گرمیت رام حیم سنگھ کی فلم ’میسنجر آف گاڈ‘ کی ریلیز کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد گرو سنگھ نے اس کے خلاف اپیل کی تھی اور اپیل بورڈ نے ان کی فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی۔

لیلا سیمسن کی قیادت میں سنسر بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف ایس) نے اس فلم کو عوام کے لیے نامناسب قرار دیا تھا کیونکہ اس سے ’توہمات کو فروغ مل رہا تھا‘۔

انھوں نے سرکار کی نگرانی میں چلنے والے بورڈ پر بدعنوانی اور دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

47 سالہ گرو گرمیت رام رحیم سنکھ زرق برق لباس میں ایک راک سٹار کی طرح رہتے ہیں اور ڈیرہ سچا سودا کے کے سربراہ ہیں

،تصویر کا ذریعہwww.derasachasauda.org

،تصویر کا کیپشن47 سالہ گرو گرمیت رام رحیم سنکھ زرق برق لباس میں ایک راک سٹار کی طرح رہتے ہیں اور ڈیرہ سچا سودا کے کے سربراہ ہیں

دریں اثنا گرمیت رام رحیم سنگھ کی مخالفت کرنے والوں نے فلم کی ریلیز کی منظوری کے بعد ریاست پنجاب اور ہریانہ میں مظاہرہ کیا ہے۔

لیلا سیمسن نے گذشتہ اگست میں بورڈ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا کیونکہ ان سے قبل اس عہدے پر فائز شخص کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

فلم ’میسنجر آف گاڈ‘ کو فلم سرٹیفیکیشن اپیل ٹریبیونل نے ریلیز ہونے کی منظوری دی۔

لیلا سیمسن نے کہا کہ یہ منظوری ان کے ادارے کا ’مذاق اڑائے جانے‘ کے مترادف ہے۔ انھوں نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ان کا استعفیٰ حتمی ہے۔

جمعے کو ان کی ساتھی ایرا بھاسکر بھی اس مسئلے پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں۔

گرو سنکھ نے اپنے کئی میوزک ویڈیوز جاری کیے ہیں جن میں ان کے ہزاروں معتقدین یکجا رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہNarendra Kaushik

،تصویر کا کیپشنگرو سنکھ نے اپنے کئی میوزک ویڈیوز جاری کیے ہیں جن میں ان کے ہزاروں معتقدین یکجا رہتے ہیں

بھارت میں نشر و اشاعت کے نائب وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کسی قسم کے دباؤ سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’سنسربورڈ کے تمام فیصلوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔‘

لیکن سی بی ایف ایس کی رکن نندنی سرڈیسائی نے کہا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ فلم کو ’جلد بازی‘ میں ریلیز کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا: ’ہم تمام لوگوں نے فلم دیکھی اور ہم آٹھوں کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ فلم عوامی طور پر دکھائے جانے کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ عام طور پر ٹرائبیونل کسی فلم کی منظوری کے لیے 15 سے 30 دنوں کا وقت لیتی ہے لیکن اس معاملے میں 24 گھنٹے میں فیصلہ سنا دیا گیا۔

بھارتی اخبار مڈ ڈے نے سرڈیسائی کا قول نقل کیا ہے کہ اس فلم کو ’توہمات اور اندھی تقلید کو فروغ دینے‘ کے لیے مسترد کیا گیا تھا۔

فلم مبینہ طور پر توہمات کو فروغ دیتی ہے

،تصویر کا ذریعہHAQEEQAT ENTERTAINMENT

،تصویر کا کیپشنفلم مبینہ طور پر توہمات کو فروغ دیتی ہے

گرو کی ویب سائٹ کا دعوی ہے کہ فلم ’میسنجر آف گاڈ ایک ایسی فلم ہے جو معاشرے میں بیداری پھیلانے کے لیے ہے۔‘

لیلا سیمسن نے کہا ہے کہ انھوں نے حکومت کی جانب سے نامزد بورڈ اراکین اور اہلکار کی جانب سے ’مداخلت، دباؤ اور بدعنوانی کی وجہ سے استعفی دیا ہے۔‘

واضح رہے کہ کسی بھی فلم کو بھارت میں اس کی نمائش کے لیے ممبئی میں موجود اس کے صدر دفتر اور اس کے نو علاقائی دفاتر سے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

47 سالہ گرو گرمیت رام رحیم سنکھ زرق برق لباس میں ایک راک سٹار کی طرح رہتے ہیں اور ڈیرہ سچا سودا کے کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے اپنے کئی میوزک ویڈیوز جاری کیے ہیں جن میں ان کے ہزاروں معتقدین یکجا رہتے ہیں۔