’میسنجر آف گاڈ‘ فلم پر بھارتی سنسر بورڈ کی سربراہ مستعفی

،تصویر کا ذریعہleela samson
بھارت میں سنسر بورڈ کی سربراہ لیلا سیمسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا یہ استعفیٰ اس فلم کی ریلیز کی منظوری کے بعد آیا ہے جس کو ان کے پینل نے مسترد کردیا تھا۔
لیلا سیمسن نے ایک گرو گرمیت رام حیم سنگھ کی فلم ’میسنجر آف گاڈ‘ کی ریلیز کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد گرو سنگھ نے اس کے خلاف اپیل کی تھی اور اپیل بورڈ نے ان کی فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی۔
لیلا سیمسن کی قیادت میں سنسر بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف ایس) نے اس فلم کو عوام کے لیے نامناسب قرار دیا تھا کیونکہ اس سے ’توہمات کو فروغ مل رہا تھا‘۔
انھوں نے سرکار کی نگرانی میں چلنے والے بورڈ پر بدعنوانی اور دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہwww.derasachasauda.org
دریں اثنا گرمیت رام رحیم سنگھ کی مخالفت کرنے والوں نے فلم کی ریلیز کی منظوری کے بعد ریاست پنجاب اور ہریانہ میں مظاہرہ کیا ہے۔
لیلا سیمسن نے گذشتہ اگست میں بورڈ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا کیونکہ ان سے قبل اس عہدے پر فائز شخص کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
فلم ’میسنجر آف گاڈ‘ کو فلم سرٹیفیکیشن اپیل ٹریبیونل نے ریلیز ہونے کی منظوری دی۔
لیلا سیمسن نے کہا کہ یہ منظوری ان کے ادارے کا ’مذاق اڑائے جانے‘ کے مترادف ہے۔ انھوں نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ان کا استعفیٰ حتمی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کو ان کی ساتھی ایرا بھاسکر بھی اس مسئلے پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNarendra Kaushik
بھارت میں نشر و اشاعت کے نائب وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کسی قسم کے دباؤ سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’سنسربورڈ کے تمام فیصلوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔‘
لیکن سی بی ایف ایس کی رکن نندنی سرڈیسائی نے کہا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ فلم کو ’جلد بازی‘ میں ریلیز کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا: ’ہم تمام لوگوں نے فلم دیکھی اور ہم آٹھوں کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ فلم عوامی طور پر دکھائے جانے کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ عام طور پر ٹرائبیونل کسی فلم کی منظوری کے لیے 15 سے 30 دنوں کا وقت لیتی ہے لیکن اس معاملے میں 24 گھنٹے میں فیصلہ سنا دیا گیا۔
بھارتی اخبار مڈ ڈے نے سرڈیسائی کا قول نقل کیا ہے کہ اس فلم کو ’توہمات اور اندھی تقلید کو فروغ دینے‘ کے لیے مسترد کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہHAQEEQAT ENTERTAINMENT
گرو کی ویب سائٹ کا دعوی ہے کہ فلم ’میسنجر آف گاڈ ایک ایسی فلم ہے جو معاشرے میں بیداری پھیلانے کے لیے ہے۔‘
لیلا سیمسن نے کہا ہے کہ انھوں نے حکومت کی جانب سے نامزد بورڈ اراکین اور اہلکار کی جانب سے ’مداخلت، دباؤ اور بدعنوانی کی وجہ سے استعفی دیا ہے۔‘
واضح رہے کہ کسی بھی فلم کو بھارت میں اس کی نمائش کے لیے ممبئی میں موجود اس کے صدر دفتر اور اس کے نو علاقائی دفاتر سے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
47 سالہ گرو گرمیت رام رحیم سنکھ زرق برق لباس میں ایک راک سٹار کی طرح رہتے ہیں اور ڈیرہ سچا سودا کے کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے اپنے کئی میوزک ویڈیوز جاری کیے ہیں جن میں ان کے ہزاروں معتقدین یکجا رہتے ہیں۔







