سنسر بورڈ کے علاوہ ’قینچیاں‘ اور بھی ہیں

ہندوستانی سنیما کے 100 سال پورے ہونے کے موقع پر فلمی صنعت کے جن پہلوؤں پر زیادہ بات ہو رہی ہے ان میں سنسر شپ بھی شامل ہے۔
جب کوئی نئی فلم ریلیز ہوتی ہے تو سنسر کی قینچی کئی فلم سازوں کی نیند اڑا دیتی ہے۔
پچھلے دنوں معروف اداکار کمل ہاسن کی 100 کروڑ کی لاگت سے بنی فلم ’وشورپم‘ کی ریلیز میں جو دشواریاں آئیں، اس نے انڈسٹری کو سنسر شپ پر بات کرنے کے لیے مجبور کیا۔
دراصل سنسر بورڈ کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی گروہوں، ریاستی حکومتوں اور دیگر اداروں کی طرف سے فلم پر کیے جانے والے اعتراضات نے فلمسازوں کے لیے راہیں مشکل کر دی ہیں۔
فلم ساز اور ہدایتکار کرن جوہر کہتے ہیں ’اگرچہ میری فلموں کی شبیہ فیملی ڈرامے کی ہے لیکن اپنی پہلی فلم سے میں کورٹ کیس لڑتا آیا ہوں، میں نے سب کچھ کیا ہے، سیاسی جماعتوں سے نمٹا ہوں، سنسر شپ کے مسائل سے جوجھا، یہاں تک کہ میرا پتلا بھی جلایا گیا ہے۔‘
کرن کا کہنا ہے کہ ’اب مجھے اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں ڈر لگتا ہے۔ چاہے وہ سنسر شپ کے بارے میں ہو یا سیاست کے بارے میں۔ ایک فلم ساز ہونے کے ناطے مجھ سے جمہوری اقدار کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن کہاں ہے جمہوریت؟‘
واضح رہے کہ کرن جوہر بہت جلد مصنف امیش ترپاٹھی کی بیسٹ سیلر کتاب ’ام مورٹلز آف ملوہا‘ پر فلم بنانے جا رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں تشویش ہے کہ اس فلم کے بعد کہیں ان کا خون نہ ہو جائے یا انہیں ملک چھوڑ کر بھاگنا نہ پڑے۔
سنسر بورڈ سے پاس ہو جانے کے باوجود فلمیں بہت ساری كسوٹيوں پر فیل بھی ہو جاتی ہیں اور اگر کوئی بھی ایک طبقہ ناراض ہو جائے تو سنیما ہال تک فلم کا پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو کیا فلموں کے معاملے میں سب سے طاقتور سمجھی جانے والی تنظیم واقعی کوئی قوت نہیں رکھتی؟ سنسر بورڈ کا حکم درحقیقت آخری حکم کیوں نہیں ہے؟
ایک اخبار سے کی گئی بات چیت میں سی بی ایف سی کی چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنكجا ٹھاکر کہتی ہیں کہ ’سپریم کورٹ نے بھی کئی بار کہا ہے کہ بورڈ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہونا چاہیے۔ خاص کر اس اندیشے کے تحت کہ بعض فلموں کے سینما ہال میں پہنچنے سے کچھ انہونی ہو سکتی ہے، اس کو سنیما ہال میں لگنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ ہاں کچھ واقعہ ہو جائے تو فلم کو ہٹایا جا سکتا ہے۔‘

پنكجا کے مطابق ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ’وشوروپم‘ یا ’آرکشن‘ جیسے کیس دوبارہ نہ ہوں جب فلموں کو پاس کرنے کے باوجود ریلیز سے روکا گیا تھا۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر منیش تیواری بھی اس کوشش میں ہے کہ کس طرح بورڈ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔‘
اپنی فلم ’لو سیکس اور دھوکہ‘ کا ذکر کرتے ہوئے ڈائریکٹر دیباكر بنرجی کہتے ہیں: ’اس فلم میں ایک کٹ تجویز کیا گیا تھا جس پر مجھے اعتراض تھا۔‘
فلم میں ایک کردار کہتا ہے کہ مجھے اس کالج میں ایڈمیشن میری ذات کی بنیاد پر ملا ہے لیکن اس کے باوجود بھی مجھے داخلہ ملتا کیونکہ میں سمارٹ ہوں۔ دیباكر نے بتایا کہ ان سے کہا گیا کہ اس سے آپ لوگوں کی توجہ ذات پات کی طرف كھينچیں گے جس پر ان کا جواب تھا کہ یہ لائن تو دراصل ان کے مفاد میں ہے۔
اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے دیباكر کہتے ہیں ’فلم میں کردار کا خون اس کی ذات کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور اگر فلم میں یہ بات نہیں دکھائی گئی تو کہانی کا اصل کیا رہ جائے گا؟ اس طرح کی سنسر شپ پر مزید سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔‘
وہیں پنكجا کے مطابق سنسر بورڈ کے پینل میں مختلف علاقے کے لوگ ہوتے ہیں اور سب کی سوچ مختلف ہوتی ہے، اس وجہ سے فلم کو کئی آنکھوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔
فلم سازوں کی اپنی شکایت ہے اور سنسر بورڈ کے اپنے جواب۔ اس درمیان کچھ ایسی قینچیاں بھی ہیں جو فلموں کوسینما ہال تک پہنچنے ہی نہیں دیتیں اور یہی تیز دھار قینچیاں فلم انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔







