بھارتی انتخابات میں نجومی سب سے اہم

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

نمونیا کا علاج نجومی نہیں کرتے

الیکشن کا سیزن ہو تو انڈیا میں نجومیوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔ زیادہ تر سیاستدان ان سے مشورہ کیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ آپ کو شاید یقین نہ ہو لیکن گھر کی دہلیز سے پہلے دایاں پیر نکالا جائے یا بایاں، کتنے بجےاور کس سمت میں، کس کا چہرہ دیکھ کر اور کس کو چڑھاوا چڑھا کر، سب فیصلے نجومی ہی کرتے ہیں۔

کیونکہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ستارے اگرگردش میں ہوں تو پھر خیر نہیں، اس لیے سیاست دان ستاروں کو ’خوش‘ رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں، ستارے سیٹ ہوں تو ووٹر اپنے آپ سیٹ ہو جائیں گے۔

اور انگلیوں میں بڑے بڑے رنگ برنگے قیمتی پتھر پہننے، مہینوں پوجا پاٹھ کرانے اور غریبوں کو کھانا کھلانے کے بعد بھی اگر کامیابی نہ ملے تو؟

تو آپ ستاروں کا جو بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیجیے!

اس مرتبہ کچھ سیاستدان جاپانی روحانی عقیدے ’ریکی‘ کا سہارا بھی لے رہے ہیں، لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ریکی کی مدد سے جو لوگ الیکشن جیتیں گے انہیں انڈین قانون ساز اداروں کی رکنیت ملے گی یا جاپانی۔

آپ اگر ان باتوں میں یقین رکھتے ہیں تو یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن آگر آپ سے مدھیہ پردیش کےایک ریاستی وزیر کی طرح سردی کے اس موسم میں صبح سویرے دریا کے ٹھنڈے پانی میں غسل کرنے کے لیے کہا جائے، تو یا تو آپ گیزر ساتھ لے کر جائیں یا اپنا ڈاکٹر، کیونکہ سنا ہے کہ نمونیا کا علاج نجومی نہیں کرتے۔

قانون سازی میں آؤٹ سورسنگ

گوا ماضی میں پرتگال کی نوآبادی رہ چکا ہے
،تصویر کا کیپشنگوا ماضی میں پرتگال کی نوآبادی رہ چکا ہے

گوا کے حسین ساحل سمندر کی تصاویر تو آپ نے دیکھی ہی ہوں گی۔ تھوڑی شراب، تھوڑا شباب اور بے پناہ خوبصورت قدرتی نظاروں کی آمیزش، وہاں کے منفرد انداز زندگی کا لطف لینے کے لیے دنیا بھر سے سیاح گوا پہنچتے ہیں۔

لیکن اب گوا کو ایک عجیب و غریب مشکل کا سامنا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق ریاست کے دو قانون ساز پرتگالی شہری ہیں۔

بظاہر تو ریاستی حکومت قانون سازی کی آؤٹ سورسنگ نہیں کر رہی ہے حالانکہ اگر کرے تو شاید سیاسی بحث اور قانون سازی کے معیار میں کچھ بہتری آسکتی ہے جیسا کہ مقابلے اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی وجہ سے دوسرے شعبوں میں ہوا ہے۔ لیکن افسوس کہ دستور ہند اس کی اجازت نہیں دیتا اور ویسے بھی ریاست میں بی جے پی برسراقتدار ہے اور وہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے خلاف ہے۔

دراصل گوا پرتگال کی کالونی تھا لیکن 1961 میں انڈیا نے فوجی کارروائی کے ذریعہ اسے وفاق میں شامل کر لیا۔ جو لوگ اس وقت پرتگالی شہری تھے ان کے وارث اگر چاہیں تو اب بھی پرتگالی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔

ان دونوں قانون سازوں نے شاید پلان بی کے طور پر پرتگالی شہریت حاصل کر رکھی تھی۔ چونکہ گوا کی سیاست میں نجومیوں کا کوئی عمل دخل نہیں، وہاں الیکشن میں ہار کا خطرہ رہتا ہی ہے، اگر یہاں الیکشن ہار گئے تو کم سے کم پرتگال جاکر تو لڑ سکتے ہیں۔

شطرنج کے کھلاڑی

ناروے کے میگنس كارلسن شطرنج کے نئے عالمی چیمپیئن بن گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنناروے کے میگنس كارلسن شطرنج کے نئے عالمی چیمپیئن بن گئے ہیں

وشو ناتھن آنند شطرنج کا عالمی خطاب ہار گئے ہیں۔ ہار جیت تو ہر کھیل کا حصہ ہے لیکن جس یک طرفہ انداز میں وہ ہارے اس پر نئے نوجوان عالمی چیمپیئن میگنس کارلسن بھی خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یہ مقابلہ ختم ہوا اس پر انہیں افسوس ہے۔

کارلسن، افسوس آنند کو بھی ہے، وہ صرف 43 سال کے ہیں لیکن پھر بھی عمر میں آپ سے دگنے ہیں۔ بچپن میں کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے، اگر آپ کو واقعی اپنے کیے پر ندامت ہے تو جب چاہیں خطاب واپس کر دیجیے، یہاں کوئی انکار نہیں کرے گا!