بھارت: اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ جاری

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش اور شمال مشرقی ریاست میزورم میں اسمبلی انتخابات کے لیے پیر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
ان انتخابات میں مختلف مرحلوں میں دہلی سمیت بھارت کی پانچ ریاستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں اور ان انتخابات کو مبصرین آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پیش لفظ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں ووٹرز کل 230 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں جبکہ میزورم میں 40 ا میدواروں کو منتخب کرنے کے لیے قریب سات لاکھ ووٹرز ہیں۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ میزورم میں 40 سیٹوں کے لیے کل 142 امیدوار میدان میں ہیں اور خواتین ووٹرز ان کے انتخاب میں اہم کردار ادا کریں گی۔
بھارتی الیکشن کمیشن نے مدھیہ پردیش میں کل 53946 ووٹنگ سٹیشن یا پولنگ بوتھ بنائے ہیں۔
میزورم میں ایک جانب کانگریس ہے تو دوسری جانب متحدہ محاذ ہے۔ کانگریس کے رہنما اور ریاست کے وزیر اعلی لا تھنہاول نے امید ظاہر کی ہے کہ کانگریس ایک بار پھر کامیابی حاصل کرے گی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں کانگریس اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان زبردست مقابلہ ہے اور یہاں کے نتائج آئندہ سال کے پارلیمانی انتخابات پر اثر انداز ہوں گے۔

بی جے پی اور کانگریس دونوں پارٹیوں نے اس ماہ کے اوائل تک اپنے تمام امیدواروں کے نام ظاہر کر دیے تھے اور اس کے بعد سے ریاست میں زبردست انتخابی سرگرمی نظر آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بی جے پی میں پھوٹ کے باوجود سنہ 2008 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار انھیں کانگریس کے سندیا خاندان کی جانب سے زبردست چیلنج ہے۔
وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کو عرف عام میں ’ماما جی‘ کہا جاتا ہے اور ان کا دعوی ہے کہ ان تک عوام کی رسائی ہے جبکہ گوالیار کے راج گھرانے سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے نوجوان رہنما جوتیرادتیہ سندھیا کو ’مہاراج‘ کہا جاتا ہے۔
کانگریس نے بی جے پی ریاستی حکومت پر بدعنوانی کا الزام لگایا ہے اور بی جے پی کے تمام مقامی رہنماؤں کے خلاف اس طرح کے الزامات کے بعد ریاست کے وزیر اعلی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ’اگر آپ ہمیں پھر سے وزیراعلی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے ایم ایل اے امیدواروں کو ووٹ دیں۔‘
اس بار مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں پڑوسی ریاست اتر پردیش کی اہم پارٹی بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ ان کا اپنا دلت ووٹ بینک ہے۔
کانگریس میں جوتیرادتیہ کی آمد سے ریاست میں ان کے روایتی روح رواں دگ وجے سنگھ کے خیمے میں تنگ دلی کے آثار نمایاں ہیں۔

بی بی سی ہندی نے ریاست کی پانچ اہم سیٹوں کا ذکر کیا ہے جن میں ودیشا کی سیٹ بھی شامل ہے جہاں سے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان خود امیدوار ہیں۔ واضح رہے کہ انھوں نے یہاں سے لڑنے کا فیصلہ اخیر وقت میں کیا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ اگر وہ یہاں سے نہیں لڑیں گے تو یہ سیٹ بی جے پی کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔
دوسری بدنی سے متصل بھوجپور سیٹ ہے جہاں سے کانگریس کے اہم رہنما سوریش پچوری میدان میں ہیں۔
تیسری نشست ہے چرہٹ کی جہاں سے کانگریس کے اہم رہنما اور ارجن سنگھ کے بیٹے اجے سنگھ میدان میں ہیں۔ یہ ان کی موروثی سیٹ کہلاتی ہے۔
مہو کی سیٹ خاصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں بی جے پی کے کیلاش وجے ورگیے کو کانگریس کے انتر سنگھ سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔
شیو پوری میں سندھیا راج گھرانے کی یشودھرا راجے سندھیا کا مقابلہ کانگریس کے ویرندر رگھو ونشی سے ہے۔
اس سے قبل چھتیس گڑھ میں انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ راجستھان اور دہلی میں انتخابات باقی ہیں۔ پانچوں ریاستوں کے انتخابات کے نتائج آٹھ دسمبر کو آئیں گے۔







