’نریندر مودی نئی کے ساتھ پرانی تاریخ بھی بدلنے کے درپے‘

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی

سکندرِ اعظم بہار آئے تھے!

اگر بہار نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی بہار پہنچے تو انہوں نے ریاست کے دانشمند عوام کو تاریخ کا ایسا سبق پڑھایا جسے وہ آسانی سے نہیں بھلا پائیں گے۔

مسٹر مودی کے مطابق 2300 سال پہلے جب سکندر اعظم نے ہندوستان پر چڑھائی کی تو بہار ہی کی وجہ سے ہم بال بال بچ گئے! بہار نے ہی سکندر کو مار بھگایا تھا، وہ بھلے ہی وہاں کبھی گئے ہی نہ ہوں!

<link type="page"><caption> مودی بھارت کے سب سے طاقتور سیاست دان</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/09/130914_doosra_pehlu_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

سکندر اعظم کی طرح نریندر مودی بھی اب ملک پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی بھی قیمت پر بہار کو فتح کرنا ضروری ہے۔ شاید اسی لیے وہ بہار کی ایک نئی زیادہ سنہری تاریخ لکھ رہے ہیں۔

جب مسٹر مودی بہار میں درس و تدریس کے سنہرے دور کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں تکشیلا اور نالندا کی تصویر ابھرتی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ تکشیلا (پاکستان کا موجودہ شہر ٹیکسلا) کا نہ اب بہار سے کوئی تعلق ہےاور نہ دو ہزار سال پہلے تھا!

مورخین کو تو چھوڑیے خود بہار کے وزیر اعلیٰ تک انکار کر رہے ہیں کہ سکندر نے کبھی ان کی ریاست کا رخ کیا تھا، آتے تو انہیں ضرور پتہ چلتا، اتنی بڑی فوج ساتھ لے کر جو چل رہے تھے! وزیر اعلیٰ خود بہاری ہیں اور اگر سکندر کی فوجوں کو پسپا کرنے کا سہرا اپنے سر باندھ سکتے تو موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے، اس لیے ان کی بات پر اعتبار کر لینا چاہیے!

لیکن یہ بات نریندر مودی کو کون سمجھائے۔ ان باریکیوں کے لیے ان کے پاس وقت کہاں؟ وہ مستقبل بدلنے کے وعدے کے ساتھ میدان میں اترے تھے لیکن آغاز ماضی سےکررہے ہیں۔

مودی صاحب پلیز، آپ نئی تاریخ ضرور رقم کیجیے لیکن پرانی، جیسی بھی ہے اسے ویسا ہی چھوڑ دیجیے۔ اگر آپ تکشیلا بہار کے لیے مانگیں گے تو پاکستان کے ساتھ ایک اور نیا تنازع کھڑا ہوجائے گا!

’اوریجنل آئرن مین‘

سردار ولبھ بھائی پٹیل
،تصویر کا کیپشنسردار ولبھ بھائی پٹیل کا یہ مجسمہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا

انڈیا میں ’مرد آہن‘ کے خطاب کے تین دعویدار ہیں۔ کانگریس کے سردار ولبھ بھائی پٹیل (جنہیں آپ اوریجنل آئرن مین کہہ سکتے ہیں) اور اس کے بعد بی جے پی کے دو رہنما لال کرشن اڈوانی اور نریندر مودی۔

سردار پٹیل ملک کے پہلے وزیر داخلہ تھے۔ آزادی کے بعد انہی کی قیادت میں ساڑھے پانچ سو سے زیادہ ریاستوں کو ایک متحد ملک کی شکل دی گئی۔ اور انہی کی ہدایت پر حیدرآباد دکن پر چڑھائی کی گئی کیونکہ نظام عثمان علی خان ہندوستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نہیں تھے۔

اسی لیے قوم پرست ہندو تنظیمیں انہیں اپنا ہیرو مانتی ہیں۔ ان کا پرانا موقف ہے کہ اگر جواہر لال نہرو کے بجائے سردار پٹیل کو وزیر اعظم بنایا جاتا تو آج ملک کی شکل کچھ اور ہی ہوتی کیونکہ نہرو اور پٹیل کے درمیان شروع سے ہی نظریاتی اختلافات تھے۔

اس پس منظر میں آج کل بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ان کی وراثت پر رسہ کشی چل رہی ہے۔ اور نریندر مودی گجرات میں سردار پٹیل کا ایک دیو قامت مجسمہ تعمیر کروا رہے ہیں جس پر ڈھائی ہزار کروڑ (25 ارب) روپے خرچ ہوں گے، یعنی مریخ کو جانے والے انڈیا کے مشن سے پانچ گنا زیادہ!

سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یہ مجسمہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا، تقریباً چھ سو فٹ اونچا۔

آپ شاید سمجھیں گے کہ انڈیا جیسے غریب ملک میں یہ پیسے کی بربادی ہے لیکن مجسمے کے مکمل ہونے کے بعد مریخ پر جانے کے لیے خلائی جہاز کی ضرورت نہیں پڑے گی، جہاں یہ مجسمہ ختم ہوگا وہاں سے مریخ کا راستہ پیدل بھی طے کیا جاسکتا ہے، اور وقت بس اتنا ہی لگے گا جتنا سکندر اعظم کو پنجاب سے بہار پہنچنے میں لگا تھا۔

داؤد ابراہیم کا دل بدل گیا؟

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسر کے مطابق داؤد ابراہیم نے جیت کی صورت میں ٹیم کو انعام کی پیشکش کی تھی
،تصویر کا کیپشنانڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسر کے مطابق داؤد ابراہیم نے جیت کی صورت میں ٹیم کو انعام کی پیشکش کی تھی

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسرکر نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ 1986 میں انڈر ورلڈ کے ڈان داؤد ابراہیم شارجہ میں پاکستان کے خلاف ایک میچ سے پہلے ہندوستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں آئے تھے اور انہوں نے یہ پیش کش کی تھی کہ اگر انڈیا نے پاکستان کو ہرا دیا تو وہ ہر انڈین کھلاڑی کو ایک ایک گاڑی تحفے میں دیں گے۔

یہ وہی یادگار میچ تھا جس میں چیتن شرما کی آخری گیند پر جاوید میانداد نےچھکا مارا تھا، اور اس چھکے نے ہند پاک کرکٹ کا توازن بدل دیا تھا۔

اس کے بعد کی تاریخ آپ کو معلوم ہی ہے۔ 1993 میں ممبئی میں بم دھماکے ہوئے اور انڈیا کا الزام ہے کہ اس کے بعد داؤد ابراہیم کراچی چلے گئے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی انڈین ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ سیاست، پیشے اور سپورٹس کو الگ رکھا جاسکتا ہے! ویسے بھی آج کل وقت، تاریخ اور وفاداریاں بدلتے دیر نہیں لگتی۔