کیا وزیرِ اعظم چائے بیچ سکتا ہے؟

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا میں جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، سیاسی بحث کا معیار نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اب بحث اس بات پر ہے کہ کیا چائے بیچنے والا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے؟
ابتدا اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے ایک لیڈر نے یہ کہہ کر کی کہ آپ سپاہی کو کپتان بنا دیں تو وہ کپتان کی طرح سوچنا شروع نہیں کردیتا، اسی طرح چائے بیجنے والے کے پاس وہ وسیع النظری نہیں ہوسکتی جو وزیرِ اعظم بننے کے لیے چاہیے۔
اس بات میں کتنا وزن ہے یہ فیصلہ تو آپ خود ہی کیجیے۔
لیکن وزارتِ عظمٰی کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کو یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ اب وہ اپنی ہر تقریر میں یہ ذکر کرنا نہیں بھولتے کہ بچپن میں وہ چائے بیچا کرتے تھے۔
لیکن شاید بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ چائے بیچنے والا وزیرِ اعظم بننا بھی چاہتا ہے کہ نہیں؟ اور کیا اسے اس کی مرضی کے خلاف وزیرِ اعظم بنایا جاسکتا ہے؟ یا یہ اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں؟
اور اگر چائے بیچنے والا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے تو کیا وزیرِ اعظم بھی چائے بیچ سکتا ہے؟
کیا چائے والے کی کوئی عزت نہیں، اس کے کام کے لیے کسی ہنر کی ضرورت نہیں کہ وزیرِ اعظم بھی جب چاہے، چائے بیچنے لگے؟
جمہوریت اور سوشلزم کے بارے میں یہ گہرے سوال ہیں جن کا جواب مسٹر مودی اور سماج وادی پارٹی مل کر ہی دے سکتے ہیں۔ جب تک وہ ان پر غور کریں ذرا یہ ملاحظہ فرمائیے کہ گذشتہ چند دنوں میں سیاسی بحث کی ہائی لائٹس کیا رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی نے کانگریس کے انتخابی نشان کو ’خونی پنجہ‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میڈم (سونیا گاندھی) بیمار ہیں تو شہزادے (راہل گاندھی) کو پارٹی کی کمان سونپ دیں اور جب راہل گاندھی یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ریاستی حکومت کو پیسہ دیا تو کیا یہ پیسہ وہ اپنے ماما کے گھر سے لائے تھے؟
اور جواب میں کانگریس نے کہا کہ جب’ کنویں کے مینڈک‘ مودی گجرات کی ترقی کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ پیسہ اپنے نانا کے گھر سے لائے تھے؟ اور کسی کی (سونیا گاندھی) بیماری کا کوئی جانور ہی مذاق اڑا سکتا ہے۔
ابھی پارلیمانی انتخابات میں پانچ چھ مہینے باقی ہیں، دل تھام کے بیٹھیں اور کوشش کیجیے کہ بچے ٹی وی اور اخبارات سے ذرا دور ہی رہیں۔
ہندو قوم پرست اسلام کی تبلیغ کریں گے؟
انڈیا میں ہندو قوم پرستوں اور تبلیغی جماعت والوں میں جلد ہی فرق ختم ہونے والا ہے۔ دونوں گلےمیں ہاتھ ڈال کر گلی محلوں میں اسلام کی تبلیغ کیا کریں گے۔
ہوسکتا ہے کہ آپ کو یقین کرنے میں تھوڑی دشواری ہو لیکن کبھی کبھی انقلاب ایسے ہی خاموشی سے شروع ہوا کرتے ہیں۔
ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ لوگ مسلمانوں کو ’اسلام کی تعلیم‘ دینے کے لیے ایک نیا ٹی وی چینل شروع کر رہے ہیں۔ چینل کا نام ہوگا پیغام ٹی وی (پاکستانی ٹی وی چینل پیغام نہیں!) اور پیغام بر ہوں گے آر ایس ایس کے سابق ’پرچارک‘ (مبلغ) گریش جویال۔
انڈیا میں چائے والے اور وزیرِ اعظم کا فرق تو پہلے ہی ختم ہوچکا ہے، اب امیر غریب اور ہندو مسلمان کا فرق بھی ختم ہونے کو ہے۔
افسوس کہ آر ایس ایس پیغام ٹی وی سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے، ورنہ یہ ایک ایسی مثبت کوشش ہے کہ جس پر اسے فخر کرنا چاہیے۔ ہندو اور مسلمان مل کر اسلام کی تبلیغ کریں، قومی یکجہتی کے لیے اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے؟
سپورٹس منسٹر سچن

سچن تیندولکر آخرکار ریٹائر ہو ہی گئے۔ اب ایک بڑے اخبار نے اس بات کی پرزور وکالت کی ہے کہ انھیں کھیلوں کا وزیر بنادیا جانا چاہیے۔
ویسےتو ہماری کون سنتا ہے لیکن اگر کچھ دن کا بریک سچن کو بھی مل جاتا، اور ہمیں بھی، تو اچھا ہوتا۔ چوبیس سال کی لگا تار کرکٹ کے بعد سچن تھک گئے ہوں گے، انھیں بھی تھوڑا آرام ملنا چاہیے اور ان کے مداحوں کو بھی۔
اور اس کے بعد بھی اگر آپ اپنی رائے پر قائم رہیں تو بحیثیت کیپٹن ان کے ریکارڈ پر ایک نظر ضرور ڈال لیجیے گا، وہ کرکٹ کے خدا ضرور تھے لیکن ناخدا نہیں، انھیں کپتان سے واپس سپاہی بنانے میں کرکٹ بورڈ نے بھی زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔
اور اب بھی آپ نہ مانیں تو پھر وزیرِ اعظم ہی کیوں نہیں، دنیا کا ایسا کون سا چائے بیچنےوالا ہے جویہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس کے اندر سچن رمیش تیندولکر سے زیادہ صلاحیت ہے!







