’ہندو زیادہ بچے پیدا کریں تاکہ آبادی متوازن رہے‘
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
حالات کتنے بھی بدلیں بدلتا کچھ نہیں ہے!

انڈیا میں قوم پرست ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ مسلمانوں کو زیادہ پسند نہیں کرتی۔یہ تاثر تو پرانا ہے لیکن ہندوؤں کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے وہ کس حد تک جاسکتی ہے اس کا ہوش ربا انکشاف خود آر ایس ایس کے ایک رہنما نے کیا ہے۔ بس خوشی کی بات یہ ہے کہ آر ایس ایس کی حکمتِ عملی قومی مفاد میں بھلے ہی نہ ہو لیکن قانون کے دائرے میں ضرور ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کو بھی زیادہ بچے پیدا کرنے چاہییں تاکہ ملک میں ڈیموگرافک عدم توازن پیدا نہ ہو یا آسان الفاظ میں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ نہ ہوجائے۔
یہ تو معلوم نہیں کہ آر ایس ایس کو صرف تناسب کی فکر ہے یا یہ خطرہ ہے کہ اقلیت اکثریت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں اسے تشویش رہی ہے، لیکن جو غیر معمولی قربانی اس نے مانگی ہے، لگتا نہیں ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پڑھے لکھے ہندو نوجوان اس کے لیے تیار ہوں گے۔
آر ایس ایس کے جوائنٹ جنرل سیکرٹری دتاتریا ہوسابلے کے مطابق مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور ہندوؤں میں خاندانی منصوبہ بندی کی وجہ سے اب ملک کو مسلح افواج میں بھرتی کے لیے نوجوانوں کی کمی کا سامنا ہے۔
شاید خود آر ایس ایس کو بھی یہ اندازہ نہ ہو کہ اگر نوجوان ہندو اس کی اپیل پر عمل کرتے ہیں تو اس سے ملک میں ہندو مسلم کا فرق ختم ہوجائے گا اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا کیونکہ پھر تنظیم کی مہربانی سے دونوں ایک ہی راہ پر گامزن ہوں گے۔
مانا کہ یہ مقابلے کا دور ہے لیکن کسی ایک شعبے میں تو دوسروں کو بھی آگے رہنے دیجیے!
جہاں تک مسلح افواج کا تعلق ہے یہ واقعی سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اگر سوا ارب کی آبادی کے باوجود بھرتی کے لیے جوانوں کی کمی ہے تو بلاشبہ ہندوؤں کو آر ایس ایس کے مشورے کے مطابق ایک کے بجائے تین بچے پیدا کرنے چاہییں لیکن یہ بچے اور ان کے والدین کتنے ہی قوم پرست کیوں نہ ہوں، پیدا ہوتے ہی تو فوج میں شامل ہونہیں سکتے۔
تب تک کیوں نہ ان لوگوں سے کام چلایا جائے جو آپ کی اپیل سے پہلے ہی آپ کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ بے چارے پڑھے لکھے ہندو نوجوانوں کو اس مشکل آزمائش سے گزرنا ہی نہ پڑے اور نہ چاہتے ہوئے آبادی بھی قابو میں رہے اور قومی یکجہتی کی ایک اور مثال قائم ہوجائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہوسابلے صاحب، آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

مریخ کے لیے انڈیا کا مشن اب پوری طرح تیار ہے۔ انڈیا میں خلائی تحقیق کے ادارے اسرو کا کہنا ہے کہ مشن کا بنیادی مقصد جدید ترین راکٹ ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنا ہے، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ انڈیا کے پاس دوسرے سیاروں تک مشن بھیجنے کی صلاحیت موجود ہے۔
لیکن مارس آربٹر مشن مریخ پر نہ لینڈ کرےگا اور نہ اسرو کا وہاں پیاز اگانے کا ارادہ ہے جیسا کہ پیاز کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں سے پریشان بہت سے لوگ امید کر رہے ہوں گے۔
اس لیے نہیں کہ مریخ پر پیاز اگ نہیں سکتی کیونکہ جب خلا میں دس مہینے کا نان سٹاپ سفر طے کرکے مریخ تک پہنچ سکتے ہیں تو سائنسدانوں کے لیے وہاں پیاز اگانا کیا بڑی بات ہے، بس اس لیے کہ وہاں سے پیاز واپس لانے کا ابھی کوئی انتظام نہیں ہے!
مارس آربٹر مریخ تک جائے گا ضرور لیکن واپس نہیں آئے گا۔ جب تک یہ ٹیکنالوجی تیار ہوتی ہے آپ کو مہارشٹرا اور راجستھان کی پیاز سے ہی کام چلانا پڑے گا۔
یہ الگ بات کہ اسے خریدنا بھی چاند ستارے توڑ کر لانے سے کم نہیں ہے۔ واقعی ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!
بس کوئی کام نہ کریں

دہلی میں الیکشن کمیشن نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان انتہائی غریب لوگوں کی شناخت کا کام روک دے جنھیں بہت سستی قیمت پر اناج فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بی جے پی کی حمایت سے حال ہی میں ایک قانون وضع کیا ہے۔
الیکش کمیشن کے مطابق غریبوں کی نشاندہی جاری رکھنے سے انتخابات کے ماڈل ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی۔
عام دنوں میں تو حکومتیں خود ہی کام نہیں کرتی، انتخابات سے پہلے جب ذرا انھیں جوش آتا ہے تو الیکشن کمیشن نہیں کرنے دیتا۔
اسمبلی کے انتخابات کے بعد پارلیمانی انتخابات ہوں گے، غرییوں کے لیے مشورہ ہے کہ اگر وہ یہ ڈائری پڑھ رہے ہوں تو اگلے سال گرمیوں تک کے لیے اپنا انتظام خود کر لیں۔
(ہو سکتا ہے کہ تب تک انہیں مریخ پر بھیجنے کا انتظام بھی ہو جائے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پیاز واپس لانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔)
انڈیا کو فکر نہیں

دنیا کے طاقتور ترین سیاسی رہنما پریشان ہیں کہ امریکی جاسوسوں نے ٹیلی فون پر ان کی بات چیت سنی یا ان کے ای میل اکاؤنٹس پر نظر رکھی لیکن من موہن سنگھ چین کی بنسی بجا رہے ہیں، انھیں کوئی فکر نہیں کیونکہ حکومت کے ایک بیان کے مطابق نہ ان کے پاس ذاتی موبائل فون ہے اور نہ ای میل اکاؤنٹ!
تاہم یہ تو کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کا سرعام اعلان کیا جائے۔ قوم کی عزت کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔ مانا کہ ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے لیکن اگر وزیرِاعظم کے پاس موبائل فون نہیں ہے تو ایسا بھی نہیں کہ حکومت دلوا نہیں سکتی۔
اگر وزیر اعظم کے پاس موبائل فون نہیں ہوگا تو صدر اوباما کو کیسے پتہ چلے گا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں؟







