مصر میں ’ایگزوڈس‘ پر پابندی

ایگزوڈس
،تصویر کا کیپشنمصری حکام نے کہا ہے کہ فلم میں کئی تاریخی غلطیوں کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی گئی ہے

مصر نے انجیل میں شامل کتابِ خروج پر فلمائی گئی ہالی وڈ کی فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فلم میں کئی ’تاریخی سقم‘ موجود ہیں۔

سینسرشپ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ ان غلطیوں میں وہ دعویٰ کہ اہرام یہودیوں نے بنائے تھے اور بحیرہ احمر کا دو حصوں میں تقسیم ہونا حضرت موسیٰ کا معجزہ نہیں بلکہ ایسا زلزلے کی وجہ سے ہوا تھا شامل ہیں۔

’ایگزوڈس: گاڈز اینڈ کنگز‘ میں کرسچن بیل موسیٰ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس طرح کی خبریں بھی ہیں کہ فلم پر مراکش میں بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

اگرچہ ریاستی کنٹرول والے مراکش سینما سینٹر (سی سی ایم) نے فلم کی اجازت دے دی تھی لیکن اطلاعات کے مطابق حکام نے اسے کے پریمیئر سے ایک دن پہلے اس پر پابندی لگا دی ہے۔

ایگزوڈس پرچودہ کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے اور اسے کے پہلے اختتام ہفتہ پر اس نے 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کمائے تھے۔

انجیل کی کہانی کے متعلق ملے جلے تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ٹائم نے کہا ہے کہ سینمائی طور پر اس میں موسیٰ کی کہانی بے جان طریقے سے دکھائی گئی ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے اسے بری طرح نامکمل کہا ہے۔

فلم کے آغاز میں اکٹھی ہونے والی آمدنی بھی انجیل پر دوسری بنائی گئی کہانیوں سے کم ہوئی ہے۔

مارچ میں ریلیز ہونے والی ڈیرن آرونوفسکی کی نوح نے اپنے پہلے ہفتے میں 43کروڑ سات لاکھ ڈالر بنائے تھے جبکہ دی پیشن آف دی کرائسٹ نے 83 کروڑ تین لاکھ ڈالر اکٹھے کیے تھے۔