بالی وڈ کی تاریخ کی سیر کے لیے میوزیم

،تصویر کا ذریعہFILMS DIVISION
- مصنف, مدھو پال
- عہدہ, بی بی سی ہندی، ممبئی سے
بالی وڈ نگری ممبئی کے پیڈر روڈ پر واقع گلشن محل میں ’نیشنل میوزیم آف انڈین سینیما‘ قائم کیا گیا ہے جہاں بھارتی سینیما کے تاریخی سفر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
چھ ہزار مربع فٹ کے رقبے میں تعمیر کردہ اس دو منزلہ عمارت میں نو کمرے ہیں۔
اس مخصوص میوزیم کی تشکیل کے لیے فلمز ڈویژن نے فلموں سے منسلک کئی اہم شخصیات پر مشتمل ایک مشاوراتی کمیٹی بنائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہNATIONAL MUSEUM
یہ میوزیم چار سال سے زیر تعمیر ہے اور اس کا ایک حصہ تقریباً تیار ہے۔ اسے اگلے برس کے آغاز پر عام لوگوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
اس میں بھارتی سینیما کے خاموش دور کی فلموں سے لے کر جدید دور تک کی تاریخ کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
فلمز ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل وی ایس كنڈو نے بتایا کہ ’اس میوزیم کے گراؤنڈ فلور میں ہندوستانی سینیما کے ابتدائی سفر کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کی دیواروں پر دونوں جانب آویزاں تصاویر ان شخصیات کے بارے میں ہیں جنھوں نے ہندوستانی سینیما کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہNATIONAL MUSEUM
یہاں دادا صاحب پھالکے، ایچ ایس بھٹ، ہيرالال سین، جے ایف مدان اور آر وی نائیڈو کی تصویریں نظر آئيں گی۔
دوسرے کمرے میں پروجیکٹر پر ہندوستانی سینیما کی پہلی فلم راجہ ہریش چندر سمیت خاموش دور کی فلمیں دکھائی جائیں گي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیسرے کمرے میں کے ایل سہگل سے لے کر تمام بڑے گلوکاروں اور موسیقاروں کے گانے سنے جا سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہFILMS DIVISION
چوتھا کمرہ بولتی فلموں کے لیے مختص ہے جس میں اس دور کی فلموں کی جھلک نظر آئے گی۔
پانچواں کمرا تمام ادوار کے سٹوڈیوز کے لیے وقف ہے۔ ابتدائی دور میں فلموں کی شوٹنگ کے لیے لکڑی کے کیمروں کا استعمال ہوتا تھا جنھیں یہاں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔
ایس کنڈو نے بتایا کہ ’یہاں دادا صاحب پھالکے کا استعمال شدہ کیمرا بھی نظر آئے گا۔‘
اس میوزیم میں ’مدر انڈیا‘ سمیت کئی کلاسک فلموں کے اصل پوسٹر بھی رکھے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFILMS DIVISION
اس کے علاوہ مراٹھی، کنڑ، مليالم، بنگالی، گجراتی، تمل سمیت کئی علاقائی زبانوں کی فلموں کی تاریخ کے بارے میں بھی یہاں چیزیں موجود ہوں گی۔
اس میوزیم کا بجٹ تقریباً 122 کروڑ روپے ہے۔
میوزیم کی مشاوراتی کمیٹی کا منصوبہ یہ ہے کہ یہاں آنے والوں کے لیے ٹکٹ زیادہ مہنگے نہ رکھے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔







