ڈیوڈ کے مجسمے کے لیے دو لاکھ یورو کا چبوترہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اطالوی حکومت معروف مجسمہ ساز، مصور اور فن تعمیر کے ماہر مائیکل اینجلو کے بنائے ہوئے ڈیوڈ کے شاہکار مجسمے کو بچانے کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر خرچ کرے گی۔
اس مجسمے کو زلزلے سے بچانے کے لیے ایک نیا چبوترہ اور بنیاد بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
گذشتہ تین دنوں کے دوران فلورنس کے اس علاقے میں زلزلے کے چھوٹے موٹے ڈھائی سو جھٹکے آ چکے ہیں۔
سنیچر کو اطالوی وزیر ثقافت ڈیریو فرانسیشینی نے کہا کہ ’حکومت مائیکل اینجلو کے ڈیوڈ کے مجسمے کو زلزلے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے دو لاکھ یورو خرچ کرنے جا رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ فلورنس میں ڈیوڈ یا حضرت داؤد کا مجسمہ سیاحوں کی توجہ کا اہم مرکز رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
گذشتہ موسم بہار میں کیے جانے والے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈیوڈ کے مجسمے کے پاؤں میں جو ہلکا شگاف آیا ہے اگر اس میں ذرا بھی اضافہ ہوا تو یہ مجسمہ زمیں بوس ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ مجسمہ پانچ ٹن وزنی سنگ مرمر کی چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے۔
اس کی حفاظت کے لیے ایک ایسی بنیاد کی ضرورت سامنے آئی ہے جو اسے زلزلے کے جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم حالیہ دنوں میں آنے والے زلزلے کے جھٹکوں نے اس کام کو ناگزیر بنا دیا ہے۔
اطالوی وزیر ڈیریو نے کہا: ’ڈیوڈ جیسے شاہکار کو بغیر کسی تحفظ کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔‘

ڈیوڈ کا یہ شاہکار مجسمہ یورپ کے نشاۃ الثانیہ کی یادگار ہے۔
فلورینس اکیڈمیا گیلری کے ڈائرکٹر اینجلو تارتو فیری نے کہا کہ حکومت کی امداد سے مجسمے کے کوتحفظ فراہم کرانے والی بنیاد تقریبا ایک سال میں تیار ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ ڈیوڈ کا مجسمہ اسی فلورینس اکیڈمیا گیلری میں موجود ہے۔
اٹلی میں اس سے قبل جو بڑا زلزلہ آیا تھا وہ سنہ 2009 میں لا اکیلا میں آیا تھا اور اس میں 309 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







