مجسمہ آزادی دوبارہ کھل گیا

دس ستمبر سنہ 2001 وہ آخری دن تھا جب سیاحوں نے مجسمہ آزادی کی چھوٹی سی کھڑکی سے من ہٹن کی آخری تصاویر اتاری تھیں اوران تصاویر میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاور چھائے ہوئے تھے۔
اگلی صبح لبرٹی آئس لینڈ کے کھلنے سے پہلے ہی دہشت گرد حملوں کے بعد دونوں ٹاور ہمیشہ کے لیے نیویارک کے نقشے سے غائب ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد سے ہی مجسمہ آزادی عام لوگوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ سال تیس لاکھ لوگوں نے لبرٹی آئس لینڈ کا دورہ کیا تھا جس پر مجسمہ آزادی کھڑا ہے۔
مجسمہ آزادی کے تاج تک پہنچنے کے لیے 354 سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں اور ان میں سے ڈیڑھ سو سیڑھیاں بہت تنگ ہیں۔
گیارہ ستمبر کے حملوں اور امریکہ میں سیاحتی مقامات کی سکیورٹی میں زبردست اضافے کے بعد اب لوگوں کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑے گا اور ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص سیڑھی پر جا سکتا ہے۔
مجسمہ آزادی کے دوبارہ کھلنے کے بعد ایک دن میں صرف 240 لوگوں کو اندر جانے کی اجازت ہوگی اور ان لوگوں کو کافی پہلے ایڈوانس بکنگ کرانی ہوگی۔
مجسمہ آزادی فرانس نے امریکہ کو اس کی آزادی کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر بطور تحفہ دیا تھا یہ مجسمہ مشرق میں فرانس کی سمت دیکھتا ہے۔جہاں مجمسے کے کراؤن سے آپ بحرِ اوقیانوس کی سمت دیکھتے ہیں وہیں اس سے من ہٹن کی بدلی ہوئی شکل بھی دیکھی جا سکے گی۔
مجسمہ آزادی کا کھلنا اپنے آپ میں بہت اہم ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئے صدر اوباما قومی سلامتی پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجسمہ آزادی دیکھنے کے لیے آئی ایک خاتون سیاح کا کہنا تھا’ کہ یہ اس بات کی سمت ایک اشارہ ہے کہ امریکہ ایک بار پھر ایک بہتر ملک بن رہا ہے۔‘







