مجسمہ آزادی ایک سال کے لیے بند

نیو یارک کا مشہور لینڈ مارک سٹیچو آف لیبرٹی (مجسمہ آزادی) کو مرمت کے لیے ایک سال کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے وزیر داخلہ کین سلازار کا کہنا ہے کہ 305 فٹ بلند تانبے کے اس مجسمے کی مرمت پر ساڑھے ستائیس ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔
نیشنل پارک سروس کا کہنا ہے کہ اس 125 سالہ پرانے مجسمے میں نئی لفٹ اور نئی سیڑھیاں لگائی جائیں گی۔ تاہم اس کی مرمت کے دوران لیبرٹی آئی لینڈ عوام کے لیے کھلا رہے گا۔
اس مجسمے کو 1886 میں فرانس نے امریکہ کو تحفے میں دیا تھا۔
ہر سال لیبرٹی آئی لینڈ پر پینتیس لاکھ لوگ آتے ہیں تاہم مجسمے کے اوپر جانا ممنوع ہے۔
ستمبر گیارہ کے حملے کے بعد کچھ سال تک سکیورٹی وجوہات کے باعث سیاح مجسمے کے اوپر نہیں جا سکتے تھے۔ تاہم 2001 کے کچھ سال بعد سیاحوں کو آبزرویٹری پر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق مجسمے میں پرانی سہولیات سیاحوں کے لیے نہیں بلکہ مجسمے ہی کے لیے خطرناک ہیں۔
کین سلازار کا کہنا ہے ’دو سال قبل جب ہم نے سیاحوں کو مجسمے کے اوپر جانے کی اجازت دی گئی تو ہم نے تہیہ کیا تھا کہ ہم مجسمے کے اندرون کو سیاحوں کے لیے زیادہ محفوظ اور پر آرام بنائیں گے۔ اور آج جب ہم یہ مجسمہ بند کر رہے ہیں تو ہم اس انیسویں صدی کی سہولیات کو ایکیسویں صدی کی سطح پر لائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجسمے کو عوام کے لیے انتیس اکتوبر سے بند کیا جائے گا۔







