’خواتین کے کرنے والے کام‘ کے سوال پر معافی

چینل 10 کا کہنا ہے کہ یہ جوابات ’آسٹریلوی عوام کی سوچ کی عکاسی نہیں‘ کرتے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچینل 10 کا کہنا ہے کہ یہ جوابات ’آسٹریلوی عوام کی سوچ کی عکاسی نہیں‘ کرتے

آسٹریلیا کے چینل 10 نے اپنے ایک پروگرام ’فیملی فیوڈ‘ میں ایک سوال پر معافی مانگی ہے کیونکہ کئی لوگوں نے شکایت کی کہ سوال سے ’صنفی امتیاز‘ ظاہر ہوتا ہے۔

پروگرام میں مدمقابل امیدواروں سے اندازہ لگانے کو کہا گیا کہ ان کے خیال میں جب 100 لوگوں سے خواتین کے کرنے والے کاموں کی نشاندہی کرنے کو کہا گیا تو ان کے کیا جواب تھے۔

اس سوال کے صحیح جوابات میں کھانا پکانا، صفائی کرنا، اور برتن دھونے جیسے جوابات شامل تھے۔

دوسری جانب مردوں کے کرنے والے کاموں میں کے صحیح جوابات میں معمار، پلمبر اور مستری جیسے کام شامل تھے۔

چینل 10 کا کہنا ہے کہ یہ جوابات ’آسٹریلوی عوام کی سوچ کی عکاسی نہیں کرتے۔‘

پروگرام کے فارمیٹ میں دو خاندان مدِمقابل ہوتے ہیں اور مقابلہ ہوتا ہے کہ کون سب سے زیادہ وہ جوابات ددیتا ہے جو ان 100 افراد نے دیے جب ان سے یہ سوالات پوچھے گئے۔

بدھ کو برطانیہ میں ’فیملی فورچونز‘ کے نام سے یہ پروگرام نشر ہوا جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس سوال پر شدید تنقید کی گئی۔

بعض ناظرین نے پروگرام میں پوچھے گئے سوالات کو ’زن بیزار‘، ’جنسی امتیاز‘ ظاہر کرنا اور ’شرمناک‘ کہا جبکہ کچھ نے کہا کے ایسے سوالات معاشرے میں جنسی امتیاز برقرار رکھتے ہیں۔

جمعرات کے روز چینل 10 نے اپنے فیس بک پر کہا: ’ہم مردوں اور خواتین کے کاموں کے سوالات پوچھنے پر معافی مانگتے ہیں جو ہم نے گزشتہ رات پروگرام میں پوچھے۔ اس طرح کے سوالات ایک غلط مشورے کی وجہ سے پوچھے گئے تھے اور پروگرام میں شامل نہیں کیے جانے چاہیے تھے۔‘

تاہم پروگرام کے میزبان گرانٹ ڈینیر نے ٹوئٹر پر کہا: ’ہمیں ان جوابات کا ذمہ دار نہ ٹھہرائیں۔ یہ جوابات آپ ہی کے دیے ہوئے ہیں آسٹریلیا!‘

لیکن پروگرام کی معافی پر کچھ لوگوں نے تبصرہ کیا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا نہیں جتنا کہ لوگوں نے بنا دیا۔