فیس بک پر جنس کے لیے 50 سے زائد اصطلاحات

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اب اس کے صارفین اپنی جنس کی شناخت ظاہر کرنے کے لیے 50 سے زیادہ اصطلاحات استعمال کر سکیں گے۔
فیس بک کے امریکی صارفین میں اب صرف مرد اور عورتیں ہی نہیں ہوں گی بلکہ 50 مختلف جنسی خصوصیات رکھنے والے لوگ پروفائل میں اپنی شناخت ظاہر کر سکیں گے۔
ان میں لوگوں میں دوہری جنسی خصوصیات رکھنے والے افراد، تبدیلی جنس کروانے والے اور ایسے افراد جو خود کو مخالف جنس سمجھتے ہیں۔
فیس بک نے ان اصطلاحات کے چناؤ کے لیے ہم جنس پرست عورتوں مردوں، دونوں اصناف سے جنسی تعلق رکھنے والوں اور تبدیلی جنس کرانے والے افراد کے گروہوں سے مشاورت کی۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں اس کے لاکھوں صارفین ایسے ہیں جنھوں نے اپنی جنس پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔
لیکن فیس بک نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ نئی سہولت باقی دنیا میں کب تک قابل استعمال ہو گی۔
فیس بک کی ایک انجینیئر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’بہت سے لوگوں کے لیے اس کے کوئی معنی نہیں ہوں گے لیکن اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر اس کا اثر پڑے گا۔‘
لاس اینجلس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں جنس تبدیل کرنے والے یعنی ٹرانس جینڈرز کے حقوق کی مہم کا کتنا گہرا اثر ہے۔ یہ تحریک ہم جنس پرست برادری کے لیے بھی عام شہریوں کے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سان فرانسسکو میں ٹرانس جینڈرز کے قانونی سینٹر نے فیس بک کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کئی ٹرانس جینڈر اس خبر سے خوش ہوں گے۔
سنہ 2011 میں ایک تھنک ٹینک کے اندازے کے مطابق امریکہ کی آبادی کا 0.3 فیصد حصہ یا سات لاکھ امریکی ٹرانس جینڈر ہیں۔







