فیس بک پر جنس کے لیے 50 سے زائد اصطلاحات

سنہ 2011 میں ایک تھنک ٹینک کے اندازے کے مطابق امریکہ میں سات لاکھ افراد ٹرانس جینڈر ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2011 میں ایک تھنک ٹینک کے اندازے کے مطابق امریکہ میں سات لاکھ افراد ٹرانس جینڈر ہیں

امریکہ میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اب اس کے صارفین اپنی جنس کی شناخت ظاہر کرنے کے لیے 50 سے زیادہ اصطلاحات استعمال کر سکیں گے۔

فیس بک کے امریکی صارفین میں اب صرف مرد اور عورتیں ہی نہیں ہوں گی بلکہ 50 مختلف جنسی خصوصیات رکھنے والے لوگ پروفائل میں اپنی شناخت ظاہر کر سکیں گے۔

ان میں لوگوں میں دوہری جنسی خصوصیات رکھنے والے افراد، تبدیلی جنس کروانے والے اور ایسے افراد جو خود کو مخالف جنس سمجھتے ہیں۔

فیس بک نے ان اصطلاحات کے چناؤ کے لیے ہم جنس پرست عورتوں مردوں، دونوں اصناف سے جنسی تعلق رکھنے والوں اور تبدیلی جنس کرانے والے افراد کے گروہوں سے مشاورت کی۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں اس کے لاکھوں صارفین ایسے ہیں جنھوں نے اپنی جنس پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔

لیکن فیس بک نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ نئی سہولت باقی دنیا میں کب تک قابل استعمال ہو گی۔

فیس بک کی ایک انجینیئر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’بہت سے لوگوں کے لیے اس کے کوئی معنی نہیں ہوں گے لیکن اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر اس کا اثر پڑے گا۔‘

لاس اینجلس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں جنس تبدیل کرنے والے یعنی ٹرانس جینڈرز کے حقوق کی مہم کا کتنا گہرا اثر ہے۔ یہ تحریک ہم جنس پرست برادری کے لیے بھی عام شہریوں کے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتی ہے۔

سان فرانسسکو میں ٹرانس جینڈرز کے قانونی سینٹر نے فیس بک کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کئی ٹرانس جینڈر اس خبر سے خوش ہوں گے۔

سنہ 2011 میں ایک تھنک ٹینک کے اندازے کے مطابق امریکہ کی آبادی کا 0.3 فیصد حصہ یا سات لاکھ امریکی ٹرانس جینڈر ہیں۔