نواز شریف بھی دھرمیندر کے مداح نکلے

بالی وڈ کے معروف اداکار دھرمیندر کے دیوانے بھارت ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی دھرمیندر کے مداح ہیں۔
یہ باتیں دھرمیندر نے بی بی سی سے ایک خصوصی بات چیت کے دوران کہیں۔ وہ گذشتہ 55 سال سے بالی وڈ میں اپنی مخصوص اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں اور انھوں نے اپنی مخصوص پہچان بنائی ہے۔
گذشتہ دنوں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے جب نواز شریف دہلی آئے تھے تب انھوں نے دھرمیندر سے بھی ملاقات کی تھی۔
دھرمیندر نے بتایا: ’اس بار جب نواز شریف دہلی آئے تو ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ نواز شریف نے بتایا کہ ان کا خاندان بھارت میں سڑک کے ذریعے جا رہا تھا تو راستے میں میرے گھر کے سامنے کار ركوائی گئی۔ انھوں نے اپنی بیوی اور بچوں کو بتایا تھا: دیکھو، یہ ہے دھرمیندر کا گھر۔‘
پنجاب کے ایک گاؤں ساہنےوال سے ہیرو بننے کا خواب لیے دھرمیندر نے 1950 کی دہائی میں ایک فلمی مقابلے میں حصہ لیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں تو سٹوڈیو تھا نہیں اس لیے قریبی قصبے میں جا کر ایک چھوٹے سے سٹوڈیو سے انھوں اپنی تصویر کھنچوا کر مقابلے کے لیے بھجوا دی۔ اس کے بعد انھیں فلم فیئر کے مقابلے کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔ یہیں سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔
دھرمیندر نے بتایا کہ دنیا بھر میں پھیلے ان کے مداحوں کا پیار انھیں اس عمر میں بھی تقویت دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: ’مجھے پاکستان سے لے کر نائیجیریا تک سے لوگوں کے خطوط آتے ہیں، میں اس عمر میں بھی خود کو نوجوان محسوس کرتا ہوں۔‘
دھرمیندر کی ہیما مالنی کے ساتھ جوڑی بہت مقبول ہوئی اور بعد میں دونوں نے شادی کر لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلموں اور اداکاری سے اپنے رشتے کو دھرمیندر نے اس انداز میں بیان کیا: ’اداکاری میرے لیے میری محبوبہ ہے۔ جیسے عاشق اور معشوق میں لڑائی ہو جاتی ہے ویسے ہی کبھی یہ روٹھ جاتی ہے تو میں منا لیتا ہوں، کبھی میں روٹھ جاتا ہوں تو یہ منا لیتی ہے۔ لیکن ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔‘

،تصویر کا ذریعہHoture Images
کیا کچھ ایسی فلمیں ہیں جنھیں کرنے کا دھرمیندر کو افسوس ہے؟
اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’مجھے تو فلم کرتے وقت ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ چلے گی یا نہیں۔ لیکن کئی وجوہات کی بنا پر فلم کرنی پڑتی ہے۔‘
دھرمیندر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے بیٹوں سنی اور بابی دیول کے ساتھ بنائی گئی فلم ’یملا، پگلا، دیوانہ 2‘ کی کہانی پر محنت نہیں کی گئی تھی اور وہ فلم بنانا غلطی تھی۔

،تصویر کا ذریعہHema Malini
اردو زبان سے دھرمیندر کو بے حد لگاؤ ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت بھی اسی زبان میں ہوئی اور وہ خود بھی شاعری کرنا پسند کرتے ہیں۔ اردو کے بارے میں ان کا کہنا تھا:
احسان مند ہوں زبان اردو تیرا تیری زبان میں بيان احساس دل آ گیا
ان کی معروف فلموں میں شعلے، کاجل، راجا جانی، دھرم ویر، چپکے چپکے، آنکھیں، میرے ہمدم میرے دوست، آیا ساون جھوم کے، میرا گاؤں میرا دیش، لوفر، وغیرہ شامل ہیں۔







