خاتون پولیس اہلکار کا شاہ رخ کے ساتھ رقص پر تنازع

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں پولیس کی ایک تقریب میں ایک خاتون پولیس اہلکار کے شاہ رخ خان کے ساتھ ناچنے پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون پولیس اہلکار کو وردی میں ناچنے کی اجازت دینے سے پولیس کی ہتک ہوئی ہے۔
اس تقریب میں شرکت کرنے والی مغربی بنگال کی رہنما ممتا بینر جی کو بھی اس رقص کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
خاتون پولیس اہلکار اور شارخ خان نے ابھی تک اس تنازعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ رقص سنیچر کو ریاستی پولیس کی سالانہ ثقافتی میلے میں کیا گیا۔ شارخ خان کو حال ہی میں ممتا بینر جی نے مغربی بنگال کا برانڈ سفیر مقرر کیا تھا۔
مغربی بنگال میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے صدر آدھیر رانجن چوہدری نے ممتا بینر جی پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے اس نے خاتون افسر کو وردی میں رقص کی جازت دے کر بھارتی آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
ان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’آئین کسی کو اس طرح وردی میں ناچنے کی جازت نہیں دیتا۔ یہ شرم کی بات ہے کہ پولیس کی وردی کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت دی گئی۔ خاتون افسر کو اس طرح وردی میں ناچنے کی اجازت دے کر ممتا بینر جی نے بھارت کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
میڈیا نے سابق سٹی پولیس کمشنر نیروپم سوم کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ ’میں اپنے دور میں کسی کو اس طرح ڈانس کرنے کی کبھی اجازت نہیں دیتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سوشل میڈیا پر بعض مبصرین نے اس تنازعے کو ’مذاق سے عاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔







