’پران دلیپ کے نکاح کے لیے بھاگے چلے آئے تھے‘

پران ہندی سنیما کے بہترین فنکار اور شاید سب سے سجیلے ولن اور بااثر کردار اداکار تھے۔
پران 12 جولائی 2013 کو دنیا کو الوداع کہہ گئے تھے لیکن ان کی فلموں کے طور پر ان کی وراثت آج بھی زندہ ہے۔
ایک وقت ایسا بھی تھا جب بچوں کا نام پران نہیں رکھا جاتا تھا۔

زبردست ڈائیلاگ ڈلیوری، سجیلا لباس، برخوردار کہنے کا وہ انداز .... یہ سب کچھ انہیں دوسروں سے جدا کرتا تھا۔

پران کے فلموں میں کام کرنے کو اتفاق ہی کہا جائے گا۔ لاہور میں کسی نے فوٹو گرافی کرتے ہوئے اُن کو دیکھا اور پنجابی فلم کی پیش کر دی۔ پہلے تو انھوں نے یہ پیش کش ٹھکرا دی لیکن بعد میں مان گئے۔

بھارت میں ریڈیو کے مشہور پیش کار امین سیانی کے ساتھ ایک انٹرویو میں پران نے کہا تھا، ’اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو کون كمبخت لاہور چھوڑ کر بامبے آتا۔‘

بطور ولن پران نے دیو آنند، راج کپور اور دلیپ کمار جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔
اس فلموں میں’مدھومتي،‘ ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے،‘ ’رام اور شیام،‘ ’ضدی،‘ اور ’چوری چوری‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ’اپكار‘ میں انہوں نےکیریکٹر ایکٹر کا رول ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کہتے ہیں کہ پران صاحب کو شعر و شاعری کا بھی خوب شوق تھا اور اردو زبان پر انہیں زبردست عبور حاصل تھا۔
پران ایک ایسے ولن تھے جن کی فیس ہیرو سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔

ان کے خاندان میں دو بیٹے ارِوند اور سنیل اور بیٹی پنکی ہیں۔
اپنے کریئر کے آغاز میں پنجابی فلموں میں پران نے نور جہاں کے ساتھ کام کیا تھا۔ 1942 میں نور جہاں کے ساتھ ایک فلم’خاندان‘ کے نغمے کافی مشہور ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
ٹوئٹر پر پران کو یاد کرتے ہوئے دلیپ کمار نے لکھا تھا: ’مجھے یاد ہے کس طرح پران میرے نکاح کے لیے خراب موسم کے باوجود سری نگر سے آیا تھا۔ سرینگر سے دہلی اور وہاں سے شام کو ممبئی پہنچا اور نکاح سے پہلے پہنچ کر مجھےگلے لگایا۔‘

پران کا سب سے مشہور اور بہترین ڈائیلاگ ہے: ’یہاں شیر خان کو کون نہیں جانتا۔‘
سنیل دت ہوں، شممي کپور یا امیتابھ بچن، سب سے ان کے اچھے تعلقات تھے۔







