’اگر منٹو آج زندہ ہوتا تو مارا جاتا‘

ادبی میلے میں کئی کتابوں کی تقریبِ رونمائی ہوئی، جن میں ’پورا منٹو‘ بھی شامل ہے جس میں منٹو کی تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنادبی میلے میں کئی کتابوں کی تقریبِ رونمائی ہوئی، جن میں ’پورا منٹو‘ بھی شامل ہے جس میں منٹو کی تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے
    • مصنف, ظفر سید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد میں دوسرا آکسفرڈ ادبی میلہ جاری ہے۔ گذشتہ سال کے کامیاب تجربے کے بعد اس سال آکسفرڈ نے زیادہ اہتمام سے اس سہ روزہ ادبی میلے کا انعقاد کیا جس میں بڑی تعداد میں ادیبوں، شاعروں اور عوام نے حصہ لیا۔

سنیچر کو کل 38 اجلاس منعقد ہوئے جن میں متنوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔

ابتدائی اجلاس میں ’غلام باغ‘ کے خالق اور مشہور ناول نگار مرزا اطہر بیگ کے ساتھ ایک نشست منعقد کی گئی جو ان کے نئے ناول ’حسن کی صورتِ حال: خالی جگہیں پُر کرو‘ کی تقریبِ رونمائی بھی تھی۔ اطہر بیگ نے اس دوران ناول سے اقتباسات پڑھ کر سنائے اور حاضرین کے سوالوں کے جواب دیے۔

انھوں نے کہا کہ ناول اس وقت ناول بنتا ہے جب اس کے اندر ناولٹی (جدت) ہو اور ہر اچھے ناول میں ادیب ایسے تجربات پیش کرتا ہے جب اس سے پہلے کبھی نہیں کیے گئے۔

اطہر بیگ کے نئے ناول کی جدت تو اس کے نام ہی سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایک ہی نام والے کئی کردار پائے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر کمال سعید نام کے چار کردار ہیں۔ اسی طرح ناول میں کئی اشیا کو بھی کردار بنایا گیا ہے، جن میں شراب کی خالی بوتل، ایک گول میز اور فلم کا رول وغیرہ شامل ہیں۔

اسی دوران ایک اور ہال میں اداکارہ، ہدایت کارہ اور مصنفہ فریال گوہر افغانستان کے بارے میں لکھے گئے اپنے انگریزی ناول ’اب اور تدفین کی جگہ نہیں‘ کا اقتباس پڑھ کر سنا رہی تھیں۔ عمدہ تحریر، فریال گوہر کی باوقار شخصیت اور منجھی ہوئی اداکارہ ہونے کے ناطے خوبصورت ادائیگی غرض کہ انھوں نے سماں باندھ دیا۔

’جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں،‘ اس عنوان کے تحت احمد فراز کی یاد میں ایک اجلاس بپا کیا گیا، جس میں احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز کے علاوہ کشور ناہید اور زہرہ نگاہ اور عابد حسین منٹو نے شرکت کی۔

اجلاس میں احمد فراز کی یادوں اور باتوں کے علاوہ ان پر ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ شبلی فراز نے اپنے والد کی زندگی کے مزاحیہ پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غالب کے بعد شاید ہی کوئی شاعر ہو جس کی حسِ مزاح فراز جیسی ہو۔ انھوں نے کہا کہ محبوب ظفر فراز کے اس پہلو پر کتاب مرتب کر رہے ہیں جو جلد منظرِ عام پر آ جائے گی۔

اگلے اجلاس کا عنوان بڑا دلچسپ تھا، جس کا اردو ترجمہ ’ایک پرآشوب سرزمین کی شاعری‘ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں پشتو زبان کے چار شعرا نے نہ صرف اپنا اپنا کلام سنایا بلکہ یہ بھی بتایا کہ موجودہ صورتِ حال نے پشتو شاعری کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے شاعر محب وزیر نے کہا کہ ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے اور ماتم کرتے کرتے تھک چکے ہیں اور اب ہماری حالت اس شخص جیسی ہے جس کے حواس دکھ سہہ سہہ کر مختل ہو چکے ہوں اور جو مزید غم ملنے پر رونے کی بجائے ہنستا ہے۔ ان کے کلام کا ایک نمونہ اردو ترجمے میں:

چھوڑ دو، ہم جنت کے اہل نہیں ہیں ہم نے جنت جیسی دنیا کو جہنم بنا دیا ہے

میرے پاؤں بھوت پریت کی طرح الٹے ہیں میں قدم آگے رکھتا ہوں لیکن سفر پیچھے کی طرف ہے

ان کے ایک اور شعر کا ترجمہ:

موت کے سوداگروں کی خبر روز آتی ہے شہر میں روز بطورِ سوغات ایک سر آتا ہے

مجید امجد اردو نظم کے بڑے شاعر ہیں۔ ان کے بعد اردو نظم آج کس مقام پر کھڑی ہے، اس بات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں افضال احمد سید، علی محمد فرشی، حمید شاہد اور تنویر انجم نے شرکت کی۔

تنویر انجم نے کہا کہ آج کے دور کی نمائندہ صنف نثری نظم ہے اور دنیا کی تمام بڑی زبانوں کی اہم شاعری نثری نظم کی شکل ہی میں ہو رہی ہے۔

آزاد اور نثری نظم کے عمدہ شاعر علی محمد فرشی نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ باوزن شاعری میں اسلوب بنانا نسبتاً آسان ہے لیکن نثری نظم میں یہ کام بڑا مشکل ہے کیوں کہ شاعر کو وزن اور بحر کی بیساکھی کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔

ادبی میلے میں کئی کتابوں کی تقریبِ رونمائی ہوئی، جن میں ’پورا منٹو‘ بھی شامل ہے جس میں منٹو کی تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے۔ تاہم حاضرینِ محفل نے مطلع کیا کہ نہ صرف اس کتاب میں منٹو کی تمام تحریریں نہیں ہیں بلکہ مرتب شمس الحق عثمانی نے بعض جگہوں پر منٹو کی اصلاح کرنے کی کوشش میں ان کی تحریر بھی بدل کر رکھ دی ہے۔

اس موقعے پر بات کرتے ہوئے ادیب اور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید نے کہا کہ منٹو کو جو معاشرہ ملا تھا وہ آج کے دور سے کہیں بہتر تھا اور اگر آج منٹو زندہ ہوتا تو کب کا مارا جا چکا ہوتا۔

اسی اجلاس میں منٹو پر بنائی گئی ایک فلم کے کچھ حصے بھی دکھائے گئے جن میں سرمد کھوسٹ نے منٹو کا کردار ادا کیا ہے۔

میلے میں انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ، آصف فرخی، شوبھا ڈے، زاہدہ حنا، عامر حسین، اصغر ندیم سید، جلیل عالی، مسعود اشعر، عقیل عباس جعفری اور درجنوں دوسرے ادیبوں نے حصہ لیا۔