اسلام آباد میں ادبی میلے کا آغاز

- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی، ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں حالیہ چند سالوں سے ایک نئی ادبی رِیت نے جنم لیا ہے جسے ادب کے میلے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایسا ہی ایک تین روزہ میلہ اسلام آباد میں سجا ہے جس میں پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش ، اٹلی اور برطانیہ سے ایک سو بیس ادیب، شاعر، نقاد اور فنکار حصہ لے رہے ہیں۔
میلے کی تقریبات میں نئی کتابوں کی رونمائی اور ادب اور زبان کے موجودہ رجحانات پر بحث ہو رہی ہے اور ساتھ ہی میلے کے شرکاء کی دلچسپی کے لیے فنون لطیفہ کی مختلف جہتوں مثلاً تھیٹر، رقص اور مشاعروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام اس ادبی میلے کے منتظمین میں سے ایک آصف فرخی نے ادبی میلے کے اہتمام کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ ’ادبی میلے کا مقصد پاکستان میں تخلیق ہونے والے ادب اور فن کے تنوع ، اُسکی دلکشی کو سامنے لانا ، اس کے علاوہ معاشرتی علوم میں ہونے والے کام سمیت پاکستانی ثقافت اور اس کے عوام کی اُمنگوں اور توقعات کی عکاسی کرنا ہے۔‘
اس پس منظر میں ادب اور فن کی بدلتی ہوئی صورتیں خاص طور پر زبان کے حوالے سے بھی مکالمے رکھے گئِے ہیں ۔

آصف فرخی کہتے ہیں کہ ’اس میلے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں مختلف ممالک جیسے کہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش میں ہونے والے ادبی میلوں کے درمیان بھی ایک مکالمہ بھی ہوگا۔‘
اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد اس ادبی میلے میں ادبی محفلوں کے ساتھ ساتھ فنونِ لطیفہ کے شعبوں جیسے کہ مشاعرے ، رقص اور تھیٹر کا اہتمام بھی کیا گیا۔
اسی قسم کی ایک تقریب میں معروف ادیبہ اور شاعرہ فہمیدہ ریاض کی مزاحمتی نظم ’اے ہم وطنو! آؤ رقص کریں‘ پر ادبی میلے کے پہلے روز مشہور رقاصہ شیما کرمانی نے رقص پیش کیا جس نے حاضرین کے دل موہ لیے۔
پاکستان اور بھارت میں داستان گوئی کی گمشدہ روایت کی تجدید کے لیے جو کوششیں جاری ہیں اس کی ایک شکل بھی میلے کے پہلے دن دکھائی دی جب پاکستان اور بھارت کے فن کاروں نے داستان گوئی کی ایک محفل منعقد کی گئی ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ادبی میلے میں 70 سیشن رکھے گئے ہیں جس سے تقریباً 80 مقررین خطاب کریں گے جبکہ میلے کے دوران 14 کتابوں کی رُونمائی بھی کی جائے گی۔







