’پتہ نہیں چلا ہم کب جہاد کرتے کرتے دہشت گرد ہو گئے‘

- مصنف, ظفر سید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
الحمرا آرٹس کونسل نے لاہور میں بین الاقوامی ادبی کانفرنس منعقد کی ہے، جس میں دنیا کے مختلف ملکوں سے ادیب، دانشور، فن کار اور صحافی شرکت کر رہے ہیں۔
اس کانفرنس کے موضوعات میں ادب کے علاوہ تصوف، فنونِ لطیفہ، میڈیا اور ثقافت شامل ہیں۔ کانفرنس کا افتتاح وزیرِ اعظمِ پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کیا۔
کانفرنس کے پہلے دن نئے اردو افسانے پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا، جس میں اردو کے نامور افسانہ نگاروں نے شرکت کی۔
<link type="page"><caption> کراچی کا تین روزہ جشنِ ادب</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2013/02/130207_karachi_literary_festival_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
افسانہ نگار و نقاد حمید شاہد نے کہا کہ عجیب دور آ گیا ہے کہ دہشت ہڈیوں کے گودے تک اتر آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں خبر بھی نہیں ہوئی کہ جہاد کرتے کرتے ہم کب دہشت گرد بن گئے ہیں۔
اس موقعے پر دوسرے مقررین نے بھی آج کل کے ماحول پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے سے بنیادی اقدار ہی غائب ہو گئی ہوں وہاں ادب ضمنی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
ڈاکٹر انوار احمد نے منٹو کے مشہور افسانے ’شہید ساز‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں جگہ جگہ شہید ساز فیکٹریاں کھلی ہوئی ہیں اور ہمارے رہنماؤں کو اپنی رہنمائی کے لیے اس افسانے کا ضرور مطالعہ کر لینا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارے عہد کے معروف نقاد ناصر عباس نیئر نے انتظار حسین پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کرنے کی کوشش کی کہ انتظار حسین ماضی پرستی کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’انتظار اردو کے پہلے پس نوآبادیاتی ادیب ہیں اور انھوں نے اپنے فکشن میں پہلی بار یورپی فکشن کے ڈھلے ڈھلائے سانچوں سے ہٹ کر کہانیاں لکھی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ انتظار حسین کے کرداروں کے ہاں روحانی انحطاط نہیں بلکہ روحانی جدوجہد نظر آتی ہے۔
بلوچستان سے آئی ہوئی محقق اور دانشور صنوبر صبا نے اردو کے بڑے افسانہ نگاروں کے فن پر روشنی ڈالی۔
زاہدہ حنا نے محمد منشا یاد کو موضوع بناتے ہوئے کہا کہ وہ حساس اور باشعور ادیب تھے جنھوں نے مارشلائی جبر اور جمہوریت پر آئے دن ہونے والے شب خون کے خلاف علم بلند کیا۔ انھوں نے خاص طور پر منشا یاد کے افسانے ’کہانی کی رات‘ کا حوالہ دیا جس میں ایک شام ٹیلی ویژن کی سکرین یکایک سیاہ ہو جاتی ہے اور کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ ہوا کیا ہے۔

سینیئر افسانہ نگار اور کالم نگار مسعود اشعر نے آخر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دور فکری اور ذہنی انتشار کا دور ہے، اور ہمیں مستقبل کا کچھ پتا نہیں چل رہا کہ آگے چل کر کیا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ تنزل کے اس دور میں ادیب معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں اردو میں بڑے لکھنے والے گزرے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان سے آگے بڑھ کر سوچا لکھا جائے اور نئے ادیب اپنی منزل کا تعین ان کے بنائے ہوئے رستوں سے الگ چل کر کریں۔
اس موقعے پر سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر شکیل عادل زادہ، افسانہ نگار مسعود مفتی اور سعادت سعید نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس الحمرا کے دو ہالوں میں منعقد کی گئی اور کانفرنس کے پہلے دونوں دن ہال ادب کے شائقین سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔
کانفرنس کے دوسرے دن کا سب سے اہم حصہ طنز و مزاح کا اجلاس تھا جس میں لوگوں کو کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں مل رہی تھی۔ اس اجلاس میں اردو کے کلاسک کا درجہ اختیار کرنے والے مزاح نگاروں مشتاق احمد یوسفی، کرنل محمد خان اور شفیق الرحمٰن کے فن پارے پڑھ کر سنائے گئے۔ جب کہ عطاالحق قاسمی، انعام الحق جاوید اور ڈاکٹر یونس بٹ نے بھی طنز و مزاح سے بھرپور تحریریں پیش کر کے شائقین کے دل موہ لیے۔
اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کی۔
کانفرنس کے دوسرے اجلاسوں میں ’مسلم ثقافت کا روشن چہرہ۔ ماضی، حال اور مستقبل،‘ ’ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ کا باہمی رشتہ،‘ اور ’تصوف اور ہمارا ادب‘ تھے۔
اجلاس کے پہلے روز وزیرِ اعظم کی موجودگی کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے ادیبوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقعے پر صرف خاص الخاص لوگوں ہی کو پاس جاری کیے گئے تھے اور بقیہ ادیب و دانش ور اس دوران الحمرا کے باہر گھومتے نظر آئے۔
کئی لوگوں نے اس بات پر تنقید کی کہ ادبی اور ثقافتی کانفرنس کے مرکزی اشتہار پر سب سے اوپر وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی تصاویر نمایاں ترین شائع کی گئی ہیں جب کہ انتظار حسین، عبداللہ حسین جیسے ادبا کو ان کے نیچے غیر نمایاں طریقے سے دکھایا گیا ہے۔







