’کشور ناہید کی نوٹ بک‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ٹائٹل: کشور ناہید کی نوٹ بک
مصنف: کشور ناہید
ناشر: سنگ میل پبلکیشنز، لور مال، لاہور
صفحات: 92
قیمت: تین سو روپے
ہر شخص کے لیے یاد ماضی عذاب نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں اپنی تمام زندگی بہت کچھ دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں لیکن مصروفیت اور قلت وقت انہیں کہیں رقم کرنے، مستقبل کے لیے سنبھال رکھنے سے باز رکھتی ہے۔ مصنفہ، شاعرہ اور سابق سرکاری اہلکار کشور ناہید کو بھی شاید یہ مسئلہ تھا۔ ان کی نئی تحریر ’کشور ناہید کی نوٹ بک‘ اسی یاد ماضی کو کتابی صورت میں محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
کشور ناہید نے بھی کوئی روزنامچہ نہیں رکھا تھا لیکن اپنے ماضی کو وہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ ابتدائیے میں وہ لکھتی ہیں کہ ’یہ جو میں لکھ رہی ہوں تاریخ نہیں ہے۔ یہ کسی بادشاہ کے دور کی کہانی نہیں ہے البتہ میرے جیسی کمزور عورت نے نوکری کے بیشتر سال آمرانہ حکومتوں کے دور میں گزارے ہیں۔۔۔ میرے اندر جتنے زخم ہیں وہ خلیل جبران کے کہنے کے باوجود ماضی کو فراموش نہیں کرسکتی ہوں۔‘
یہ یہی تڑپ ہے جس نے کشور ناہید کو قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے پہلے پہل یادوں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن جب آج بھی وہ نوجوان ملازمت پیشہ بچیوں کو باس کے سامنے بیٹھ کر یہ منظر دیکھنا پڑے کہ وہ خاتون کو دیکھ کر ننگی عورت کا مجسمہ نکال کر اس پر جگہ جگہ ہاتھ پھیرتے ہوئے گفتگو کرنا شروع کریں اور سامنے بیٹھی گریڈ 17 کی ملازمہ غصہ کھانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے تو ذہن نے یادوں سے بھاگنے سے منع کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مختصر اور بظاہر جلدی میں لکھی یاداشتوں کے بارے میں کشور ناہید کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اشاروں میں بات کرنا شاعروں کی عادت ہوتی ہے۔ ’یہ میرا سٹائل ہے۔ ایک فقرے میں پوری بات کرنا۔ اگر میں پوری تفصیل سے لکھتی تو شاید یہ کتاب پھر پانچ سو صفحات پر محیط ہوتی۔‘
تاہم وہ اس بات سے متفق نہیں کہ جلدی میں لکھی ہے۔ ’کئی ماہ میں لکھا اسے لیکن میرے انداز کی وجہ سے جلدی میں محسوس ہو رہی ہے۔‘

کشور ناہید نے اس سے قبل بھی ’بری عورت کی کتھا‘ نامی سوانح حیات لکھی ہے تو اس میں کیا مختلف ہے؟ انہوں نے بتایا کہ تازہ کتاب کا نام وہ اگلے ایڈیشن میں تبدیل کرکے ’سرکاری نوکری کی پوٹلی‘ رکھنا چاہیں گی۔ ’اس میں میری ملازمت کی آب بیتیاں ہیں۔‘
کتاب میں ایک اور کمی جن افراد کا ذکر ہے ان کا مناسب تعارف کا فقدان ہے۔ ’ہاں مجھے یہ بات کئی اور لوگوں نے بھی بتائی ہے۔ لیکن میں جس اختصار سے کام لینا چاہتی تھی شاید یہ اس کی وجہ ہے۔‘
کتاب میں جنرل نیازی کی شہوتوں کا سامان کرنے والوں کا بھی اشاروں میں ذکر ہے، جنرل ضیاء الحق کی گاڑی کے سامنے لیٹ کر نوکری کی بھیک مانگنے والوں کا بھی اور جنرل پرویز مشرف کی ہر شام کو ارغوانی بنانے کے جتن بھی آئے ہیں۔ ان کا ایک مشاہدہ موجودہ ملکی حالات کا پتہ دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں مرد و زن دیہات میں ایک ہی چارپائی پر بیٹھ کر بات کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب زمین آسمان کا فرق پڑ گیا ہے۔
پاکستان میں ایک عرصے سے کئی لوگ محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں کوئی ہندو، سکھ، مسلمان نہیں بلکہ سب پاکستانی ہیں‘ کی تلاش میں ہیں لیکن مل نہیں رہی۔ اس بابت حکام نے بھارت سے بھی رجوع کیا لیکن فائدہ نہیں ہوا۔
کشور ناہید لکھتی ہیں کہ وہ تقریر جنرل یحیٰی کے زمانے میں وزارت اطلاعات کے انچارج جنرل شیر علی نے غائب کرائی تھی۔
مولانا کوثر نیازی کے بطور وزیر اطلاعات ایک واقعہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی شاعری کی کتاب میں کہیں کہیں انہوں نے کاتب کے لیے لکھا تھا کہ سکرپٹ میں ’فاصلہ کم رکھیں۔‘
وزیر صاحب نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’فاصلہ کیسے کم ہو جب تم ہی نہ چاہو۔‘ یہ سن کر وہ غصے میں کمرے سے باہر آگئیں اور اگلے روز انہیں معطل کر دیا گیا۔
کشور ناہید کی یہ کتاب ان جیسے دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ضیاالحق کے دور میں میڈم نور جہاں کے بلاؤز اور بازوؤں کا بھی ذکر ہے اور مرحوم شریف صاحب یعنی ’ابا جی‘ کی طبیعت پر گراں گزرنے والے ٹی وی ڈرامے کی باقی ماندہ قسطوں کا کیا کِیا گیا۔







