اس عہد میں ہر اردو پڑھنے والے کی کتاب

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نام کتاب: خرد افروزی اور روشن خیالی
مصنف: رفعت اقبال خان
صفحات: 508
قیمت: 600 روپے
ناشر: مقتدرہ قومی زبان۔ پاکستان
خرد افروزی اور روشن خیالی کی اصطلاحیں، اپنی ترکیب میں بنیادی طور پر اس دفاعی دفاعی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں جس کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی جب عقیدہ پرستوں نے عقل کے استعمال کی کشش کو پھیلتے اور اثر انگیز ہوتے ہوئے دیکھا اور انھیں لگا کہ اگر اس نئے عقیدے کا چلن بڑھا تو انھیں لوگوں پر جو دسترس حاصل ہے، وہ تو ختم ہو گی ہی ان کا احترام اور معاشی ذرائع بھی جاتے رہیں گے۔
کیوں کہ عقیدے کی بنیاد پر ہی انھیں نہ صرف اقتدار کی قوت سے قربت حاصل تھی بلکہ کئی جگہ تو برابر کی شرکت بھی حاصل تھی، اس لیے انھوں نے عقل پر اصرار کو ایک ایسے نئے مذہب سے تعبیر کیا جو ان کے مذہب اور انھیں ختم کرنے کے درپے تھا۔
اس لیے عقل پر اصرار یا ریشنل ازم (Rationalism) کے خلاف جنگ کو انھوں نے جہاد، یعنی اجتماعی گروہی مذہبی فرض کا درجہ دے دیا۔ مذکورہ رشتہ، ہم آہنگی اور کشاکش آج بھی گرد و پیش ہی میں نہیں کئی معاشروں میں جاری اور اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کی تفصیل موجودہ کتاب میں خاطر خواہ انداز سے موجود ہے۔ اگرچہ اس میں اکثر جن ماخذوں کو بنیاد بنایا گیا ہے وہ اس تفصیل میں زیادہ گہرائی تک نہیں جاتے۔ زیادہ تر انسائیکلو پیڈیے ہیں یا لغات۔ لیکن انگریزی میں شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیوں اور لغات میں جو احتیاط اور توجہ برتی جاتی ہے، اس کی بنا پر جمع کی گئی تفاصیل کو سرسری نہیں کہا جا سکتا۔
اس کے علاوہ دوسرے ماخذ وہ کتابیں اور مضامین ہیں جو اردو میں انتہائی محبت، محنت، تردد اور فکرمندی سے لکھے گئے ہیں۔
کتاب کے مطابق، علی عباس جلال پوری جسے خرد افروزی کہتے ہیں، ڈاکٹر جمیل جالبی اُسی کو روشن خیالی قرار دیتے ہیں۔
’انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مؤلفین کے مطابق بھی روشن خیالی فکر اور عقیدے کی ایسی تحریک تھی جو ’خدا، عقلِ استدلالی، فطرت اور انسان‘ کے باہم مربوط نظریات و تعلقات سے متعلق تھی، جسے سترھویں صدی، اٹھارھویں صدی کے دانشوروں کی آشیر باد حاصل تھی اور جس نے یورپی زندگی کے تسلیم شدہ پہلوؤں کو شکست و ریخت سے دوچار کیا‘۔ یہ حوالہ غالبًا سبطِ حسن کی کتاب ’پاکستان میں تہذیب کا ارتقا‘ سے لیا گیا ہے۔
اس کتاب سے ہمیں یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو میں خرد افروزی اور روشن خیالی کے حوالے سے کم کام نہیں کیا گیا۔ اگر صرف کتاب کی فہرست پر ہی نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کیا کچھ فراہم کیا گیا ہے۔
مختصر سے پیش لفظ میں ڈاکٹر انوار احمد نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب جو درحقیقت رفعت اقبال کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس پر انھیں یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کی۔ یہ تحقیق ڈاکٹر قاضی عبدالرحمٰن عابد کی نگرانی میں کی گئی۔
رفعت اقبال حرفِ چند کے عنوان سے ایک روشن خیال فکر مند کی اولین پہچان کے انکسار کے ساتھ کہتے ہیں ’زیر نظر مقالے میں عالمی و تاریخی تناظرات میں اردو کی خرد افروز، روشن خیال علمی و فکری روایت کا مربوط مطالعہ کرنے کی طالب علمانہ کاوش کی گئی ہے، جب کہ اس اہم موضوع کی ہمہ رنگی کو سمیٹنے یا اس سے کسی قدر انصاف کے لیے طالب علمانہ نہیں، عالمانہ بصیرت و بلاغت اور وصفِ ایجاز درکار ہے‘۔
اس پیرا گراف میں ’اردو کی خرد افروزی‘ یعنی ’کی‘ استعمال کیا گیا ہے جس سے زبان کے خود مختار ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ کیا ایسا ہے؟ کیا اس پر نظر کرنے کی ضرورت نہیں؟ ایسی کچھ باتیں ہیں، اس کے تحقیقی متن کے لیے عالمی معیار جس یکسانیت کا تقاضا کرتا ہے اس کا اہتمام بھی کہیں کہیں رہ گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایک طریقہ ڈاکٹر نعمان الحق نے، حوالے میں آنے والی شخصیات کے تعارف کا عبدالرحمٰن بجنوری کی مضمون ’محاسنِ کلام غالب‘ کی تدوین میں اختیار کیا ہے، مجھے وہ انتہائی مناسب لگا ہے، اسے نہ صرف شخصیات کے لیے بلکہ کتابوں اور مضامین کے لیے بھی استعمال کیا جائے تو پڑھنے والوں کو بہت مدد مل سکتی ہے۔
جگہ کی کمی کے سبب میں چاہوں گا کہ دیگر مسائل پر بات کرنے کی بجائے کتاب کے علاقوں کا کچھ ذکر کر دوں تا کہ ان سے دلچسپی رکھنے والوں کو کتاب پڑھنے کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔
باب اوّل، خرد افروزی و روشن خیالی، نظریہ و تحریک، روایت و افکار کے عنوان سے ہے۔ اس میں پانچ فصلیں ہیں۔ جن میں خرد افروزی اور روشن خیالی کیا ہے؟۔ خرد افروزی اور روشن خیالی کی قدیم روایات و افکار۔ وادیِ دجل و فرات – عراق۔ وادیِ نیل – مصر۔ قدیم یونان میں خرد افروزی اور روشن خیالی۔ رومن عہد اور مابعد خرد افروزی اور روشن خیالی کی روایت۔ خرد افروزی اور روشن خیالی کی مسلم روایت (ساتویں صدی اور مابعد)۔ مغرب جدید میں خرد افروزی اور روشن خیالی کی روایت۔
باب دوم میں قدیم برِ عظیم میں خرد افروزی اور روشن خیالی کی روایت مرکزی عنوان ہے اور اس میں رگ وید اور اپنشدوں کا عہد، مہاتما بدھ۔ برصغیر میں ہند مسلم خرد افروزی اور روشن خیالی کی روایت۔ انگریزوں کی آمد اور نوآبادیاتی نظام کی توسیعی حکمتِ عملی۔ یورپی تجارت و سیاست اور ہندوستانی صورت حال اور 1857 کا جائزہ لیا گیا ہے۔
بابِ سوم میں مابعد 1857 - خرد افروزی اور روشن خیالی کی روایت میں سرسید، رومانوی تحریک، علامہ اقبال، تحریکِ آزادی، ترقی پسند تحریک، حلقۂ اربابِ ذوق اور فسادات کا جائزہ لیا گیا ہے اور پاکستان کے خرد افروز، روشن خیال مفکرین، اسلامی ادب، پاکستانی ادب، جدیدیت اورمابعدِ جدیدیت کی تفصیل ہے۔

بابِ چہارم میں پاکستان کے خرد افروز اور روشن خیال مفکرین کی مزید تفصیل ہے۔ علامہ نیاز فتح پوری، سید علی عباس جلال پوری، سید سبطِ حسن، ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر منظور احمد، ضمیر نیازی اور ترقی پسند ناقدین کے حوالے سے روشن خیالی کی روایت کا ذکر ہے۔
بابِ پنجم میں پاکستانی سماج میں خرد افروزور، روشن خیال فکر کے چند مسائل اور امکانات موضوع ہیں اس میں جاگیردارانہ اقدار، کثیر الجہت قدیم کلچرل اقدار اور جمہوریت و سیاسی مسائل پر نظر کی گئی ہے۔
بلاشبہ تحقیق کا پورا تردد کیا گیا ہے اور محنت بھی صاف ہے۔ توجہ اور انہماک سے پڑھے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔ 48 اغلاط کا ایک تصیح نامہ بھی ساتھ ہے۔ جو احتیاط، نیک نیّتی اور پوری کوشش کا ثبوت ہے۔
اگر کتاب کی زبان اور اسلوب میں عام پڑھنے والوں کو بھی سامنے رکھا جاتا تو اس کی افادیت میں اضافہ ہی ہوتا اور مضمون میں کوئی کمی بھی نہ آتی۔
کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے۔ قیمت مجھے مناسب لگتی ہے۔ مقتدرہ کے کاموں کا مجھے زیادہ پتا نہیں ہے لیکن اس کام کے لیے اس کی اور زکریا یونیورسٹی کی تعریف حق ہے۔







