آسکرز: 12 سال، گریوٹی یا امریکن ہسّل؟

’اس برس مقابلہ بہت سخت ہے اور کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ جیت کس فلم کی ہوگی۔ اور جب سے میں کام کر رہا ہوں اتنا سخت مقابلہ میں نے نہیں دیکھا‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن’اس برس مقابلہ بہت سخت ہے اور کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ جیت کس فلم کی ہوگی۔ اور جب سے میں کام کر رہا ہوں اتنا سخت مقابلہ میں نے نہیں دیکھا‘

اس سال کے آسکرز کے لیے ووٹنگ مکمل ہو گئی ہے اور سب کی نظریں تقریب پر لگی ہیں کہ اس برس دنیائے فلم کے سب سے بڑے ایوارڈ کس کس کے حصے میں آئیں گے۔

گزشتہ کئی برسوں کی نسبت اس سال ’بہترین فلم‘ کی دوڑ میں مقابلہ بہت سخت ہے۔ اور یہ بات وہ شخص کہہ رہا ہے جس کی گزشتہ سال چوبیس آسکرز میں سے اکیس کے بارے میں پیشنگوئی درست ثابت ہوئی تھی۔

فلم انڈسٹری کے مشہور رسالے ’دی ہالی وُڈ رپورٹر‘ کے نمائندے سکاٹ فینبرگ کہتے ہیں کہ ’اس برس مقابلہ بہت سخت ہے اور کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ جیت کس فلم کی ہوگی۔ اور جب سے میں کام کر رہا ہوں اتنا سخت مقابلہ میں نے نہیں دیکھا۔‘

بہترین فلم کا اصل مقابلہ تین فلموں کے درمیان ہے ۔۔۔ 12 ایئرز اے سلیو، گریوٹی، اور امریکن ہسل۔

12 سال اور 9 نامزدگیاں

’اگر سٹِیو میکوئن کی فلم کو بہترین فلم کا آسکرز مل جاتا ہے تو یہ پہلی مرتبہ ہو گا کسی سیاہ فام ڈائریکٹر کی فلم سب سے بڑا انعام جیتے گی‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’اگر سٹِیو میکوئن کی فلم کو بہترین فلم کا آسکرز مل جاتا ہے تو یہ پہلی مرتبہ ہو گا کسی سیاہ فام ڈائریکٹر کی فلم سب سے بڑا انعام جیتے گی‘

لاس ایجنلیس میں بی بی سی بات کرتے ہوئے سکاٹ فینبرگ کا کہنا تھا کہ ’ماہرین کی رائے بڑی منقسم ہے کہ کون سی فلم جیتے گی۔ کچھ کہتے ہیں کہ ’12 سال‘ جیتے گی کیونکہ شائقین میں اس فلم کو زبردست پزیرائی ملی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے جب آسکرز کے لیے ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے تو اس میں ’فوقیت ووٹنگ‘ کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ گنتی کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس نامزدگی کے حصے میں اصل میں کتنے ووٹ آئیں گے۔ اب آسکرز میں صرف یہ بات کافی نہیں شائقین نے کس فلم کے لیے بہت گرمجوشی دکھائی بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں نے دوسرے نمبر پر کسے رکھا۔‘

آخری فیصلہ جو بھی ہو مقابلہ بہرحال 12 ایئر اے سلیو، گریوٹی اور امریکن ہسّل کے درمیان ہی ہے۔

جہاں تک فینبگرگ کا اپنا خیال ہے تو وہ ’12 سال‘ کی ہی حمایت کرتے ہیں۔ اکیڈمی کی طرف سے اس فلم کو بارہ آسکرز نامزدگیاں مل چکی ہیں۔

اگر سٹِیو میکوئن کی اس فلم کو بہترین فلم کا آسکرز مل جاتا ہے تو یہ پہلی مرتبہ ہو گا کسی سیاہ فام ڈائریکٹر کی فلم سب سے بڑا انعام جیتے گی۔

ووٹنگ کا حق رکھنے والے لوگ ہیں کون؟

دو سال پہلے کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ رائے دہندگان کی کل تعداد چھ ہزار کے لگ بھگ ہے، جس میں سے 86 فیصد لوگوں کی عمریں پچاس برس سے زیادہ ہیں، 94 فیصد سفیر فام ہیں اور 77 فیصد ووٹرز مرد ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان شائقین کے رنگ و نسل اور عمروں سے میل نہیں کھاتے جو اصل میں پیسے دے کر فلم دیکھنے جاتے ہیں۔

’ میں 12 ایئر اے سلیو کے بارے میں بہت ہی زیادہ پر امید نہیں ہوں۔ اگر آپ اکیڈمی کی ماضی کی روایات کو سامنے رکھیں تو یہی لگتا ہے کہ اس فلم کو ہی بہترین فلم قرار دیا جائےگا۔ رائے دہنگان ہمیشہ اس فلم کو فوقیت دیتے رہے ہیں جس کا موضوع کوئی اہم مضمون ہو، خاص طور پر جب فلم کی بنیاد ماضی کی کوئی بڑی کہانی یا ناول وغیرہ ہو۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ’12‘ بہت سے چیزوں پر پوری اتری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ

فیِنبرگ کا کہنا ہے کہ ’ یہ فلم آج کل کے امریکہ سے بھی مماثلت رکھتی ہے،۔ امریکہ میں مختلف نسل کے لوگوں کے درمیان تعلقات کا معاملہ کسی کروٹ بیٹھنے سے ابھی بہت دور ہے۔

لیکن اس فلم کے کچھ حصوں میں تشدد کے مناظر اتنے بھیانک ہیں کہ اکیڈمی کے کچھ ارکان کا کہنا تھا کہ ان سے یہ سین دیکھے نہیں گئے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ارکان کے آخری فیصلے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ان میں کتنے لوگ یہ پوری فلم دیکھ پائے ہیں۔‘

آسکرز کی ایک نئی تاریخ؟

گریوِٹی اور امریکن ہسّل دونوں کے حصے میں دس دس نامزگیاں آ چکی ہیں۔

گریوٹی میں شاندار اداکاری کی بنیاد پر سانڈرا بُلّوک کو ’بہترین اداکارہ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

گریوٹی کے حوالے سے فینبرگ کا کہنا ہے کہ ’ اگرچہ یہ سچ ہے کہ آسکرز سب سے زیادہ نامزدگیاں جیتنے والی فلم کے حصے میں ہی آتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اکیڈمی نے ’بہترین فلم‘ کا ایوارڈ کسی سائنس فِکشن یا تھری ڈی فلم کو کبھی نہیں دیا۔

کیٹ نے پہلے ہی بافٹا میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت لیا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکیٹ نے پہلے ہی بافٹا میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت لیا ہے

’اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اس سال کا آسکرز ’گریوٹی‘ کو ملتا ہے تو یہ فیصلہ دو لحاظ سے آسکرز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا۔‘

فینبرگ نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’ جہاں تک امریکن ہسّل کا تعلق ہے تو یہ سب جانتے ہیں کہ عوام نے اس فلم کو بہت زیادہ پسند کیا ہے، اور یہ آسکرز کی تاریخ کی 15ویں ایسی فلم ہے جسے اداکاری کے تمام کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا ہے۔

’ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آج کل کے آسکرز کے لیے اس فلم میں کیا ہے۔ اس فلم میں اتنی متانت اور سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ یہ گئے دنوں کا اچھا مزاحیہ ڈراما ہے۔ لیکن مسئلہ یہ کہ مزاحیہ فلموں کو آسکرز کم ہی ملتا ہے، اور آخری مرتبہ ایسا 36 سال پہلے ہوا تھا جب ’اینی ہال‘ نامی فلم کو بہترین فلم کا ایوارڈ ملا تھا۔

’لگتا ہے کہ آسکرز کی تاریخ گریوٹی اور امریکن ہسّل دونوں کے بہت ہی خلاف جاتی ہے۔‘