لاکھوں ڈالر کی پینٹنگ جلانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک شخص نے مصور مارک شگال کی ایک پینٹنگ ایک لاکھ پاؤنڈ میں خریدی تھی، لیکن اب اسے بتایا گیا ہے کہ یہ پینٹنگ جعلی ہے اور اس جلا دیا جائے گا۔
مارٹن لینگ نے اس پیٹنگ کو روسی مصور مارک شگال کا شاہکار سمجھ کر 1992 میں خریدا تھا۔
اس پینٹنگ کو بی بی سی کے پروگرام ’فیک اور فارچیون‘ یعنی ’جعلی یا خزانہ‘ کے لیے ماہرین نے ٹیسٹ کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ اصلی ہے یا نہیں۔
اس کام کے لیے اس پینٹنگ کو شگال کمیٹی کے پاس پیرس بھجوایا گیا جہاں اب اسے فرانسیسی قانون کے تحت جلا دیا جائے گا۔
تاہم اس فیصلے کو ’بہت زیادہ سخت، نامناسب اور بدمعاشی‘ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فلپ مولڈ اس پروگرام کے ماہر فنون ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ فیصلے کبھی بھی حتمی نہیں ہوتے اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ان پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے اس فیصلے کو غلط قرار دیا اور اس پر تنقید کی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شگال کی پیدائش 1887 میں بیلاروس میں ہوئی تھی، اور وہ 30 سال قبل فرانس میں انتقال کر گئے تھے۔ انھیں فنِ مصوری میں جدیدیت کے بانیوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے اور ان کی تصاویر لاکھوں پاؤنڈ میں فروخت ہوتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شگال کمیٹی ان کے پوتے پوتیاں چلاتے ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ساکھ کا تحفظ کیا جا سکے۔
63 سالہ لینگ لیڈز سے تعلق رکھنے والے پراپرٹی ڈویلپر ہیں۔ انھوں نے اس کمیٹی کو 1909 سے 1910 کے زمانے میں مکمل شدہ آبی رنگوں میں بنائی گئی یہ تصویر دیکھنے کو کہا، جس میں ایک برہنہ ماڈل دکھائی گئی ہے۔ لینگ نے کہا کہ اگر یہ تصویر جعلی ہے تو کمیٹی انھیں اس بات کی ضمانت دے کہ اگر اسے بعد میں اصل قرار دیا گیا تو انھیں رقم واپس کر دی جائے گی۔
انھیں اب بھی جواب کا انتظار ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا اتنا سخت گیر انداز اپنایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’میں جعلسازی کے مبینہ الزام کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں مگر میں سوچتا ہوں کہ اس کا الٹا اثر ہو گا اور اس سے ایماندار لوگ سامنے آنے سے رک جائیں گے۔‘







