غزہ کا محمد عساف بلقب عرب آئیڈل بن گیا

فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے محمدعساف نے عرب آئیڈل ٹی وی شو جیت لیا ہے۔
محمد عساف جن کی عمر 23 سال ہے غزہ کی پٹی میں شادی بیاہ کے موقع پر گانا گانے والے گلوکار ہیں جنھیں چند ہفتے پہلے بہت کم ہی لوگ جانتے تھے لیکن اب وہ ایک قومی ہیرو بن گئے ہیں۔
محمد عساف کی عرب آئیڈل بننے کی خبر سن کر پورے فلسطین میں لوگوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔
نوجوان گلیوں میں نکل آئے ، غزہ شہر اور مشرقی یروشلم میں آتش بازی کی گئی۔
لبنان کے شہر بیروت میں ہونے والے اس مقابلے کو خطے کے لاکھوں افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔ اس ٹیلنٹ شو کو بیروت میں قائم ایم بی سی ٹی وی پر مارچ سے نشر کیا جار رہا تھا۔
محمد عساف سنیچر کی شام کو فائنل میں مصر کے گلوکار احمد جمال اور شام کی گلوکارہ فرح یوسف کے مدِ مقابل تھے جس میں وہ کامیاب رہے۔

غزہ شہر میں بی بی سی کی نامہ نگار یولندی نیل کے مطابق جمعے کو محمد عساف نے اکیلے ایک گانا گایا۔ اس گانے میں سیاسی رنگ تھا جس میں انھوں نے فلسطین کے روائتی سکارف کی قدر بڑھانے اور باہمی مفاہمت کو فروغ دینے کی بات کی۔
عساف کے والدین فلسطینی ہیں اور وہ خود لیبیا میں پیدا ہوئے۔ وہ غزہ میں رہنے والے پہلے گلوکار ہیں جنھوں نے گلوکاری کا کوئی بڑا مقابلہ جیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک بلاگر نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ محمد عساف نے فلسطین کو آزاد نہیں کیا ’لیکن انھوں نے فلسطینی عوام کو خوش کر دیا جو گزشتہ 66 برسوں سے ہنسے نہیں تھے۔‘
فلسطینی رہنماؤں بشمول صدر محمود عباس نے فلسطینی عوام سے کہا ہے کہ وہ عساف کی حمایت اور حوصلہ افزائی کریں۔







